25°
Sunny, April 18, 2026 in Kathmandu
شور کے زمانے میں سچ کی ذمہ داری

الف نیوز شمارہ نمبر 99؛ تاریخ: 20 جنوری 2025


اداریہ

خبر، اختیار اور انسان — شور کے زمانے میں سچ کی ذمہ داری

سیّد اکبر زاہد

آج کی سرخیاں چیختی ہیں۔
کہیں سیاست کی بساط بچھ رہی ہے، کہیں جنگ کے بعد امن کے نام پر نئے بورڈ بن رہے ہیں، کہیں زبان، تہذیب اور شناخت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، اور کہیں ترقی کی دوڑ میں انسان کی جان سستی پڑ گئی ہے۔ خبر کی رفتار تیز ہے، مگر فہم کی رفتار سست۔ ہم جان تو لیتے ہیں، مگر سوچتے نہیں۔

آج کا عہد "اطلاع” کا نہیں، اثر کا عہد ہے۔
خبر اب صرف واقعہ نہیں رہی، بلکہ بیانیہ بن چکی ہے۔ جو دکھایا جاتا ہے وہی سچ سمجھ لیا جاتا ہے، اور جو چھپا دیا جائے وہ گویا ہوا ہی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت محض پیشہ نہیں رہتی، بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

دنیا کے ایوانوں میں امن کے فیصلے ہو رہے ہیں، مگر گلیوں میں خوف زندہ ہے۔
معیشت کے گراف اوپر جا رہے ہیں، مگر عام آدمی کی سانس بھاری ہے۔
زبانوں اور ثقافتوں کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے، مگر انسان کو انسان سمجھنے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

اصل مسئلہ انسان کی غیر موجودگی ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے،
بلکہ یہ ہے کہ کس کے ساتھ ہو رہا ہے۔

جب حادثہ صرف ایک خبر بن جائے،
جب جنگ صرف اعداد و شمار میں سمٹ جائے،
جب غربت صرف ایک فائل نمبر ہو،
اور جب اختلاف صرف نفرت میں بدل جائے
تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ نظام کا نہیں، ضمیر کا ہے۔

ہم نے خبر کو طاقت تو بنا لیا،
مگر اسے آئینہ بنانا بھول گئے۔
وہ آئینہ جو ہمیں خود سے سوال کرنے پر مجبور کرے:

  • کیا یہ ترقی واقعی انسان کے لیے ہے؟
  • کیا یہ امن سب کے لیے ہے؟
  • کیا یہ زبان، یہ قوم، یہ ملک—انسان سے بڑا ہو گیا ہے۔

الف نیوز یہ مانتا ہے کہ
صحافت کا کام صرف بتانا نہیں، بچانا بھی ہے۔
صرف سوال اٹھانا نہیں، حساسیت جگانا بھی ہے۔
اور صرف طاقتور سے بات کرنا نہیں، کمزور کی آواز بننا بھی ہے۔

ہم شور کے اس دور میں خاموش سچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہم اس خبر کے حامی ہیں جس میں انسان زندہ ہو،
اور اس تجزیے کے قائل ہیں جس کے آخر میں امید باقی رہے۔

کیونکہ
اگر خبر انسان سے خالی ہو جائے
تو وہ محض اطلاع رہ جاتی ہے—
اور صحافت، صحافت نہیں رہتی۔



Editorial

News, Power, and the Human Being — The Moral Duty of Truth in an Age of Noise

By: Syed Akbar Zahid

Today’s headlines shout.
Somewhere political chessboards are being arranged, somewhere new “peace boards” are announced after devastation, elsewhere language, culture, and identity are turned into questions—and somewhere, in the race for progress, human life has grown cheap. News travels fast, but understanding limps behind. We are informed, yet we do not reflect.

This age is no longer the age of information; it is the age of influence.
News is no longer merely an event—it has become a narrative. What is shown is accepted as truth; what is concealed is treated as if it never existed. At this point, journalism ceases to be a profession alone and becomes a moral responsibility.

Decisions of peace are being made in grand halls, yet fear survives in narrow streets.
Economic graphs rise upward, but the common person’s breath grows heavier.
Languages and cultures are turned into political tools, while the courage to see a human being as a human being continues to fade.

The Core Issue: The Absence of the Human

The greatest crisis today is not what is happening,
but to whom it is happening.

When an accident is reduced to a headline,
when war is compressed into statistics,
when poverty becomes a file number,
and disagreement mutates into hatred—
know this: the problem is not of systems, but of conscience.

We have turned news into power,
yet forgotten to make it a mirror.
A mirror that forces us to ask ourselves:

  • Is this progress truly for humanity?
  • Is this peace meant for everyone?
  • Have language, nation, and state become greater than the human being?

Alif News believes that journalism’s task is not only to inform, but to protect.
Not only to question, but to awaken sensitivity.
Not only to speak to the powerful, but to be the voice of the powerless.

In this age of noise, we stand with quiet truth.
We support news in which the human being is alive,
and analysis that leaves behind a trace of hope.

Because when news is emptied of humanity,
it becomes mere information—
and journalism ceases to be journalism.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading