25°
Sunny, May 30, 2026 in Kathmandu
آلودہ پانی کا المیہ

الف نیوز — شہری ترقی یا انسانی المیہ؟

’صاف ترین شہر‘ میں آلودہ پانی، زندگیوں کا زیاں

Image
Image
Image

بھارت کے نام نہاد ’صاف ترین شہر‘ میں صاف پانی ایک قاتل بن گیا۔ مدھیہ پردیش کے تجارتی دارالحکومت اندور میں پینے کے پانی میں سیوریج شامل ہونے کے باعث کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 270 سے زائد شہری اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں ایک پانچ ماہ کا معصوم بچہ بھی شامل ہے۔

متاثرہ علاقہ بھاگیرتھ پورہ، جو کم آمدنی والے اور گنجان آبادی کے حصے میں آتا ہے، وہاں کے مکین مہینوں سے نلکے کے بدبودار پانی کی شکایت کرتے رہے، مگر شکایات سرخ فیتے کی نذر ہوتی رہیں۔ شہری صفائی کے عالمی اعزازات، کاغذی کامیابیاں اور سرکاری دعوے اس وقت بے معنی ہو گئے جب بیماری نے گھروں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

اندور کے میئر پوشیامتر بھارگوا کے مطابق آلودہ پانی سے اسہال کی وبا پھیلی، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اموات کی تعداد 15 تک پہنچ چکی ہے، تاہم سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔ 32 مریض اب بھی آئی سی یو میں ہیں، جبکہ ریاستی حکومت کے مطابق 2,456 مشتبہ مریضوں کی نشاندہی گھر گھر جا کر کی گئی۔

ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ پینے کے پانی کی پائپ لائن کے اوپر تعمیر شدہ عوامی بیت الخلا، جو سیپٹک ٹینک کے بغیر بنایا گیا تھا، سیوریج کے پانی کو سپلائی لائن میں داخل کرنے کا سبب بنا۔ طبی معائنوں میں ایسے بیکٹیریا پائے گئے جو انسانی فضلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک شہری کونسلر کمل واگھیلا نے اسے "فرائض میں سنگین غفلت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ متعدد میونسپل افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

ہلاک ہونے والے شیر خوار بچے کے والد سنیل ساہو کا کہنا ہے:
"ہمیں کسی نے نہیں بتایا کہ پانی آلودہ ہے۔ ہم نے فلٹر بھی کیا، مگر پورے علاقے میں وہی پانی بہہ رہا تھا۔ کوئی انتباہ نہیں دیا گیا۔”

اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا:
"صاف پانی کوئی احسان نہیں، یہ زندگی کا بنیادی حق ہے۔”

حکومت نے آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے نئے ضوابط بنانے کا اعلان کیا ہے، مگر سوال یہی ہے کہ کیا ضوابط جانوں کے ضیاع کے بعد ہی بنتے رہیں گے؟
اندور کا یہ سانحہ محض ایک شہر کا المیہ نہیں، بلکہ بھارت کے پانی کے انتظام، نگرانی اور شہری ترجیحات پر ایک تلخ سوالیہ نشان ہے۔


What irony can be more tragic than this: India’s ‘cleanest city’ turning deadly through its drinking water.
In Indore, sewage contamination in tap water has claimed at least 10 lives, including a five-month-old infant, and hospitalised over 270 residents, exposing a grim gap between civic rankings and human safety.

Residents of Bhagirathpura, a densely populated low-income neighbourhood, had been warning authorities for months about foul-smelling water. Their pleas were lost in bureaucracy, even as the city basked in awards for cleanliness and waste segregation.

Officials say sewage mixed into the main water line after a public toilet was constructed above a drinking-water pipeline without a septic tank. Medical tests confirmed the presence of bacteria typically found in human waste. Vomiting, diarrhoea and high fever spread rapidly, pushing hospitals to the brink.

At least 32 patients remain in intensive care, while health teams have identified 2,456 suspected cases through door-to-door screening. Several municipal officials have been suspended, and an inquiry is underway.

The grieving father of the deceased infant said the child was bottle-fed with filtered tap water. “No one warned us. The same water was flowing throughout the area,” he said.

Opposition leader Rahul Gandhi accused the Bharatiya Janata Party-led state government of negligence, stating:
“Clean water is not a favour — it is a fundamental right to life.”

The tragedy has reignited nationwide concerns over water safety, testing standards and urban governance. Indore’s crisis stands as a stark reminder: cities may win awards, but citizens need protection.
Without accountability, transparency and preventive action, even the ‘cleanest’ labels can conceal the deadliest neglect.



Leave a Reply

جنگِ خلیج کے دو پہلو!

یہ جنگ ہماری نہیں مگر سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہو رہا ہے مشتاق احمد وانمی ہم چاہے اپنے پروفائل میں خامنہ ای کی تصویر لگائیں، اسرائیل چاہے ترقی کرتا ہوا کوئی ڈرون یا میزائل دکھا کر جشن منائے، مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خلیج میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام…

Keep reading

عبد الباری مخلص کے اعزاز میں آج شہرِ وانمباڑی میں تکریم و تہنیتی اجلاس

عبدالباری مخلص درویشِ اردو آج بروز ہفتہ وانمباڑی کی ادبی اور سماجی فضا ایک یادگار لمحے کی گواہ بننے جا رہی ہے، جہاں اردو زبان و ادب کے ایک خاموش مگر درخشاں خادم، ڈاکٹر پی۔ ایس۔ عبدالباری مخلص کے اعزاز میں تکریم و تہنیت کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تقریب ان کی…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading