از: سیّد اکبر زاہد
مغربی بنگال کی سیاست میں اس بار نظریات نہیں، بلکہ مچھلی تیر رہی ہے—اور وہ بھی ایسی کہ پورا انتخابی سمندر ہلکورے لے رہا ہے۔
ممتا بنرجی نے خبردار کیا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی تو "مچھلی، گوشت اور انڈے” سب پر پابندی لگ سکتی ہے۔ جواب میں امت شاہ کو وضاحت کرنی پڑی کہ مچھلی پر کوئی پابندی نہیں لگے گی۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
جن ریاستوں میں یہی جماعت گوشت کے معاملے پر سختی دکھاتی رہی، وہی اب بنگال میں مچھلی کی آزادی کی ضمانت دے رہی ہے۔ گویا نظریہ بھی موسم کی طرح بدلتا ہے—جہاں ووٹ ہوں، وہیں لچک پیدا ہو جاتی ہے۔
اور ذرا کیرالا کی طرف بھی نظر ڈالئے—
جہاں بی جے پی کو انتخابی سیاست میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ مقامی غذائی عادات میں مداخلت نہیں کرے گی، حتیٰ کہ گائے کے گوشت جیسے حساس مسئلے پر بھی نرم لہجہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔
یعنی ایک ہی جماعت—مگر مختلف ریاستوں میں مختلف ذائقے!
عوام اب بھی سوچ میں ہیں:
کیا یہ یقین دہانیاں پالیسی ہیں یا پھر "پندرہ لاکھ” کی طرح ایک اور انتخابی داستان؟
The Politics of Fish — Ideology on the Menu?
By: SYED AKBAR ZAHID
In West Bengal, fish has become the unlikely star of electoral politics.
Mamata Banerjee warned that the Bharatiya Janata Party might restrict non-vegetarian food. In response, Amit Shah assured voters that fish, meat, and eggs are safe.
But the irony runs deeper.
A party often linked with vegetarian ideals now defends fish as cultural identity in Bengal. Political ideology, it seems, adapts swiftly when votes are at stake.
And then comes Kerala—
where the same party adopts a noticeably softer tone, acknowledging local food habits and avoiding strict positions even on sensitive issues like beef.
One party, multiple menus.
Voters, however, remain cautious:
Is this flexibility—or just another promise waiting to disappear like the famous “₹15 lakh”?





Leave a Reply