پارلیمنٹ میں روح اللہ مہدی کی للکار، انصاف اور امن کی مشترکہ صدا
ہندوستان کی پارلیمنٹ میں ایک ایسا لمحہ رقم ہوا جس نے ایوان کی فضا کو محض سیاسی بحث سے نکال کر انسانی ضمیر کی عدالت میں تبدیل کر دیا۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ Aga Syed Ruhullah Mehdi نے نہایت جرأت اور درد کے ساتھ شدت پسندی کے مسئلے پر حکومت کی یک طرفہ پالیسی کو چیلنج کیا۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر شدت پسندی کا خاتمہ واقعی مقصد ہے، تو اس کا تعلق کسی ایک نظریے، مذہب یا طبقے سے جوڑنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ “کیا شدت پسندی صرف بائیں بازو یا مسلمانوں سے جڑی ہوئی ہے؟” — ان کا یہ سوال ایوان میں گونجتا رہا، جیسے کسی سوئی ہوئی حساسیت کو جگا رہا ہو۔
روح اللہ مہدی نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا خواب صرف اسی وقت مکمل ہو سکتا ہے جب ہر قسم کی شدت پسندی — خواہ وہ کسی بھی نام یا نظریے کے تحت ہو — کو یکساں سنجیدگی سے لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایک ایسا ہندوستان چاہتے ہیں جہاں امن ہو، انصاف ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔”
اپنے خطاب میں انہوں نے ذاتی المیے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد، آغا سید مہدی، خود شدت پسندی کا شکار ہو کر جان سے گئے تھے۔ اس درد نے ان کے الفاظ کو مزید وزن بخشا، اور یہ پیغام دیا کہ شدت پسندی کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا زخم ہے۔
انہوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ تعصب اور ادارہ جاتی رویوں پر بھی سوال اٹھایا، اور کہا کہ ایسے مسائل پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر انصاف یک طرفہ ہو جائے تو امن محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ تقریر محض ایک سیاسی بیان نہیں تھی، بلکہ ایک اخلاقی اپیل تھی — ایک یاد دہانی کہ قومیں نفرت سے نہیں بلکہ انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔
Extremism Has No Religion — Aga Syed Ruhullah Mehdi Calls for Justice and Balance in Parliament”
A powerful moment unfolded in the Indian Parliament when Aga Syed Ruhullah Mehdi transformed a routine political debate into a moral reckoning.
With clarity and courage, the Member of Parliament from Kashmir challenged what he described as a selective and politically driven approach toward extremism. His question echoed across the House: “Is extremism only associated with the left wing or with Muslims?”
His words were not merely rhetorical—they carried the weight of lived experience and a deep yearning for justice.
Mehdi emphasized that extremism, in any form, must be addressed without bias. A nation that selectively defines threats, he argued, risks normalizing injustice. “We want an India free from all forms of extremism—whether in the name of religion, ideology, or identity,” he asserted.
Adding a deeply personal dimension, he recalled the tragic assassination of his father, Aga Syed Mehdi, a victim of extremist violence. This was not just a political stance—it was a testimony shaped by loss, resilience, and a commitment to peace.
He also raised concerns about what he termed as “institutionalized extremism” against minorities, urging Parliament to engage in honest and inclusive dialogue. According to him, justice cannot be partial—because partial justice ultimately becomes injustice.
In essence, his speech was more than criticism; it was a call for conscience. A reminder that nations are not strengthened by division, but by fairness, empathy, and the courage to confront uncomfortable truths.
یہ خبر محض ایک بیان نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے — جس میں ہم اپنے اجتماعی ضمیر کو دیکھ سکتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ شدت پسندی کہاں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کے خلاف کتنے ایماندار ہیں۔





Leave a Reply