الف نیوز شمارہ نمبر: 167| تاریخ 1 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد

کبھی زمین پر شام اترتی تھی تو سکون کا ایک نرم سایہ دلوں پر پھیل جاتا تھا۔ آج وہی شام خوف کی چادر اوڑھے آتی ہے۔ کبھی آسمان ستاروں سے باتیں کرتا تھا، اب وہی آسمان آگ برساتا دکھائی دیتا ہے۔ انسان نے ترقی کے نام پر جو طاقت حاصل کی تھی، وہی آج انسانیت کے سینے میں پیوست ہو رہی ہے۔
کہا گیا کہ خطرہ ہے… کہا گیا کہ ایک ملک ایٹمی طاقت بننے جا رہا ہے… کہا گیا کہ اگر آج نہ روکا گیا تو کل دیر ہو جائے گی۔ اور پھر، ان “کہا گیا” کے سہارے، آگ بھڑکا دی گئی۔ سوال یہ نہیں کہ خطرہ تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہر خوف کا علاج جنگ ہے؟ کیا ہر اندیشے کا جواب بارود ہے؟
ایران نے بارہا یقین دہانیاں دیں کہ اس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔ مگر یقین اور بدگمانی کی اس جنگ میں، گولی نے دلیل کو مات دے دی۔ عمارتیں گریں، لیڈر مارے گئے، اور دنیا نے ایک بار پھر طاقت کے اس کھیل کو خاموشی سے دیکھا۔
دل یہ سوال کرتا ہے: اگر واقعی وہ ہتھیار موجود ہوتا، جس کا شور مچایا جا رہا ہے، تو کیا دنیا اب تک سلامت رہتی؟ یا پھر یہ سب صرف خدشات کی بنیاد پر ایک ایسی آگ بھڑکانے کا جواز تھا جس میں اب پورا خطہ جل رہا ہے؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن ہاتھوں میں پہلے ہی ایٹمی طاقت موجود ہے، وہی دوسروں کو اس کے امکان پر سزا دے رہے ہیں۔ طاقت کا یہ عدم توازن صرف سیاسی مسئلہ نہیں، یہ اخلاقی سوال بھی ہے—اور شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے۔
آج خوف صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔ یہ خوف سرحدیں عبور کر چکا ہے۔ بازاروں، گھروں، مسجدوں، اسکولوں—ہر جگہ ایک انجانا سا اندیشہ پھیل گیا ہے۔ تیسری عالمی جنگ کا لفظ اب صرف کتابوں میں نہیں، لوگوں کی گفتگو میں سنائی دینے لگا ہے۔
اور پھر ایک اور سوال، جو دل کو چیر دیتا ہے: دنیا کہاں ہے؟ وہ آوازیں کہاں ہیں جو امن کی بات کرتی تھیں؟ وہ ادارے کہاں ہیں جو انصاف کے دعوے کرتے تھے؟ کیا انسانیت اب صرف بیانات تک محدود ہو گئی ہے؟
خاموشی کبھی کبھی سب سے بڑا جرم بن جاتی ہے۔ جب ظلم کے سامنے زبانیں بند ہو جائیں تو ظلم کو اور بھی جرات ملتی ہے۔ مگر تاریخ یہ بھی گواہ ہے کہ ہر اندھیری رات کے بعد ایک صبح ضرور آتی ہے—بس شرط یہ ہے کہ کوئی چراغ جلانے والا ہو۔
یہ اداریہ کسی ایک ملک کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ انسان کے حق میں ہے۔ اس بچے کے حق میں ہے جو ملبے تلے دب کر بھی زندگی کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ماں کے حق میں ہے جو ہر دھماکے پر اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیتی ہے۔ اس انسانیت کے حق میں ہے جو آج بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہے—مگر زخمی ہے، تھکی ہوئی ہے، اور شاید مدد کی منتظر ہے۔
اگر دنیا نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل شاید آنسو بھی کم پڑ جائیں گے۔ کیونکہ جب جنگ عام ہو جائے، تو انسانیت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔





Leave a Reply