25°
Sunny, April 18, 2026 in Kathmandu
خاموش دنیا، جلتی انسانیت

الف نیوز شمارہ نمبر: 167| تاریخ 1 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

Image

کبھی زمین پر شام اترتی تھی تو سکون کا ایک نرم سایہ دلوں پر پھیل جاتا تھا۔ آج وہی شام خوف کی چادر اوڑھے آتی ہے۔ کبھی آسمان ستاروں سے باتیں کرتا تھا، اب وہی آسمان آگ برساتا دکھائی دیتا ہے۔ انسان نے ترقی کے نام پر جو طاقت حاصل کی تھی، وہی آج انسانیت کے سینے میں پیوست ہو رہی ہے۔

کہا گیا کہ خطرہ ہے… کہا گیا کہ ایک ملک ایٹمی طاقت بننے جا رہا ہے… کہا گیا کہ اگر آج نہ روکا گیا تو کل دیر ہو جائے گی۔ اور پھر، ان “کہا گیا” کے سہارے، آگ بھڑکا دی گئی۔ سوال یہ نہیں کہ خطرہ تھا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہر خوف کا علاج جنگ ہے؟ کیا ہر اندیشے کا جواب بارود ہے؟

ایران نے بارہا یقین دہانیاں دیں کہ اس کی جوہری سرگرمیاں پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔ مگر یقین اور بدگمانی کی اس جنگ میں، گولی نے دلیل کو مات دے دی۔ عمارتیں گریں، لیڈر مارے گئے، اور دنیا نے ایک بار پھر طاقت کے اس کھیل کو خاموشی سے دیکھا۔

دل یہ سوال کرتا ہے: اگر واقعی وہ ہتھیار موجود ہوتا، جس کا شور مچایا جا رہا ہے، تو کیا دنیا اب تک سلامت رہتی؟ یا پھر یہ سب صرف خدشات کی بنیاد پر ایک ایسی آگ بھڑکانے کا جواز تھا جس میں اب پورا خطہ جل رہا ہے؟

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن ہاتھوں میں پہلے ہی ایٹمی طاقت موجود ہے، وہی دوسروں کو اس کے امکان پر سزا دے رہے ہیں۔ طاقت کا یہ عدم توازن صرف سیاسی مسئلہ نہیں، یہ اخلاقی سوال بھی ہے—اور شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے۔

آج خوف صرف ایران یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔ یہ خوف سرحدیں عبور کر چکا ہے۔ بازاروں، گھروں، مسجدوں، اسکولوں—ہر جگہ ایک انجانا سا اندیشہ پھیل گیا ہے۔ تیسری عالمی جنگ کا لفظ اب صرف کتابوں میں نہیں، لوگوں کی گفتگو میں سنائی دینے لگا ہے۔

اور پھر ایک اور سوال، جو دل کو چیر دیتا ہے: دنیا کہاں ہے؟ وہ آوازیں کہاں ہیں جو امن کی بات کرتی تھیں؟ وہ ادارے کہاں ہیں جو انصاف کے دعوے کرتے تھے؟ کیا انسانیت اب صرف بیانات تک محدود ہو گئی ہے؟

خاموشی کبھی کبھی سب سے بڑا جرم بن جاتی ہے۔ جب ظلم کے سامنے زبانیں بند ہو جائیں تو ظلم کو اور بھی جرات ملتی ہے۔ مگر تاریخ یہ بھی گواہ ہے کہ ہر اندھیری رات کے بعد ایک صبح ضرور آتی ہے—بس شرط یہ ہے کہ کوئی چراغ جلانے والا ہو۔

یہ اداریہ کسی ایک ملک کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ انسان کے حق میں ہے۔ اس بچے کے حق میں ہے جو ملبے تلے دب کر بھی زندگی کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس ماں کے حق میں ہے جو ہر دھماکے پر اپنے بچوں کو سینے سے لگا لیتی ہے۔ اس انسانیت کے حق میں ہے جو آج بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہے—مگر زخمی ہے، تھکی ہوئی ہے، اور شاید مدد کی منتظر ہے۔


اگر دنیا نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل شاید آنسو بھی کم پڑ جائیں گے۔ کیونکہ جب جنگ عام ہو جائے، تو انسانیت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
مارچ 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading