صرف ایک ماہ کی اس جنگ نے عرب ممالک کو 120 سے 194 ارب ڈالر تک کا نقصان

جنگ کی آگ جب سرحدوں سے نکل کر معیشت کی رگوں میں اترتی ہے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ نے اب عرب دنیا کی معیشت کو بھی شدید جھٹکا دیا ہے، جس کے اثرات کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کی اس جنگ نے عرب ممالک کو 120 سے 194 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اعداد و شمار محض مالی خسارے کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے معاشی زلزلے کی نشاندہی کرتے ہیں جو پورے خطے کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس بحران کے نتیجے میں تقریباً 37 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں، جبکہ مزید 40 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ عرب معیشت پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑی تھی اور جنگ نے اس کمزوری کو مزید عیاں کر دیا ہے۔
اگرچہ یہ تخمینے صرف چار ہفتوں پر مشتمل ایک مختصر مگر شدید جنگ کے منظرنامے پر مبنی ہیں، مگر اگر یہ تصادم طویل ہو گیا تو اس کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ خلیجی توانائی کے ڈھانچوں پر حملے اور آبنائے ہرمز میں تیل و گیس کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عالمی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، جو 118 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکا ہے، نہ صرف مہنگائی کو بڑھا رہا ہے بلکہ عالمی تجارتی نظام اور رسد کے سلسلوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ اس کے اثرات صرف عرب دنیا تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس کے دباؤ کو محسوس کر رہی ہے۔
یہ بحران خاص طور پر ان ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہے جو پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہیں، جیسے سوڈان، یمن اور لبنان۔ لبنان میں جاری فضائی حملوں اور نقل مکانی نے شہری ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔
یہ جنگ ایک بار پھر یہ سبق دے رہی ہے کہ معیشت اور امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب امن ٹوٹتا ہے تو معیشت بھی بکھر جاتی ہے، اور اس کے ملبے تلے سب سے پہلے عام انسان دب جاتا ہے۔
Economic Shockwaves of War: Arab World Faces Massive Losses
War, when it spills beyond borders into the arteries of economies, does not remain a distant conflict—it becomes a shared burden carried by entire regions. The ongoing US-Israel war on Iran has now sent powerful economic shockwaves across the Arab world, threatening the livelihoods of millions.
According to a recent report by the United Nations Development Programme, just one month of war has cost Arab economies between $120bn and $194bn. These figures are not merely statistics; they reflect a deep economic tremor shaking the very foundations of the region.
The report warns that approximately 3.7 million jobs could be lost, while nearly four million additional people may fall below the poverty line. This stark reality exposes the underlying fragility of Arab economies, which were already vulnerable before the outbreak of war.
Although these projections are based on a “short but intense” four-week conflict, the consequences could become far more severe if the war continues. Attacks on Gulf energy infrastructure and disruptions in oil and gas flows through the Strait of Hormuz have amplified uncertainty in global markets.
Oil prices, now exceeding $118 per barrel, are fuelling inflation and disrupting global trade and supply chains. The ripple effects are being felt far beyond the Middle East, underscoring the interconnected nature of today’s economies.
The burden is heaviest on already fragile nations such as Sudan, Yemen, and Lebanon. In Lebanon, ongoing air strikes and mass displacement have caused widespread destruction of homes, infrastructure, and public services, deepening an already severe humanitarian crisis.
This conflict once again highlights a fundamental truth: peace and economic stability are inseparable. When peace collapses, economies follow—and it is the ordinary people who bear the heaviest cost.




Leave a Reply