ٹمل ناڈو کے وزیر اعلی اسٹالن کا وزیر اعظم موری سے سخت سوال
چینئی: M. K. Stalin، وزیرِ اعلیٰ تمل ناڈو اور ڈی ایم کے کے صدر، نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں وزیرِاعظم Narendra Modi سے ملک کی تیاری کے حوالے سے سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "تیاری عوام کے سپرد نہیں کی جا سکتی”۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومت قیادت کے لیے تیار ہے یا اپنی عدم موجودگی کو چھپانے کے لیے عوام کو تیار رہنے کا مشورہ دے رہی ہے۔
اسٹالن نے یاد دلایا کہ جیسے ہی مغربی ایشیا کی صورتِ حال سنگین ہوئی، انہوں نے 11 مارچ کو وزیرِاعظم کو خط لکھ کر ایل پی جی کی مسلسل فراہمی، خلیجی ممالک میں پھنسے تمل باشندوں کی واپسی، اور بجلی گھروں کے لیے گیس کی سپلائی میں نظرِثانی کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے 14 مارچ کو ازخود اقدامات کرتے ہوئے ہوٹلوں اور کلاؤڈ کچنز کے لیے برقی چولہوں کے استعمال پر سبسڈی، ایم ایس ایم ایز کے لیے آسان قرضے، اور متبادل ایندھن کے استعمال میں سہولت فراہم کی۔
اس کے باوجود، ان کے بقول، مرکز کی جانب سے کوئی واضح جواب یا حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت خود غیر واضح ہو تو عوام سے تیاری کا تقاضا کیسے کیا جا سکتا ہے؟
Preparedness cannot be outsourced to the people: STALIN
Chennai: M. K. Stalin, Chief Minister of Tamil Nadu and DMK President, has raised sharp questions to Prime Minister Narendra Modi regarding the Union government’s preparedness amid the escalating West Asia crisis.
In a strongly worded statement, Stalin asserted that “preparedness cannot be outsourced to the people.” He questioned whether the government is ready to lead, or merely shifting responsibility onto citizens.
Recalling his earlier communication, Stalin noted that on March 11 he had written to the Prime Minister urging uninterrupted LPG supply, rescue measures for Tamil citizens stranded in Gulf countries, and revisions in gas allocation for power stations.
He further highlighted that the Tamil Nadu government proactively announced relief measures on March 14, including subsidies for switching to electric stoves, financial assistance for MSMEs, and easing regulatory norms for alternative fuels.
Despite these steps, Stalin pointed out that there has been no concrete response from the Centre. He questioned how citizens can be asked to prepare when the government itself has not clearly outlined its strategy.
یہ خبر صرف ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ ایک بڑے سوال کی بازگشت ہے —
کیا قیادت بحران میں راستہ دکھاتی ہے، یا عوام کو اندھیرے میں خود راستہ تلاش کرنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے؟
In times of crisis, governance is not merely about warnings —
it is about clarity, responsibility, and visible action.





Leave a Reply