الف نیوز شمارہ نمبر: 151؛ تاریخ: 15 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاھد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
خلیج فارس کا چھوٹا سا جزیرہ خارگ محض ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ عالمی معیشت اور خطے کی توانائی کا اہم مرکز ہے۔مگر جنگ کی سیاست میں اکثر جغرافیہ سے پہلے انسانیت جلتی ہے۔
ایک سوال پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے:
کیا طاقت کے نشے میں عالمی امن کو آگ لگانا جائز ہے؟
جو طاقتیں خود کو دنیا میں امن، جمہوریت اور قانون کی محافظ کہتی ہیں، جب وہی طاقتیں کسی ملک کی بنیادی اقتصادی شہ رگ کو نشانہ بناتی ہیں تو سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا بلکہ انسانیت کا بن جاتا ہے۔
جنگیں صرف میزائلوں اور بموں سے نہیں لڑی جاتیں۔ان کے اثرات کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔
عالمی معیشت ہل جاتی ہے
توانائی کے بحران پیدا ہوتے ہیں
غریب ممالک کی معیشتیں تباہ ہو جاتی ہیں
عام انسان مہنگائی، خوف اور عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کی بنیاد پر مسلط کی گئی جنگیں کبھی دیرپا امن نہیں لا سکتیں۔
ایک سپر پاور کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنی تباہی مچا سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی تباہی روک سکتی ہے۔
اگر دنیا کے طاقتور ممالک طاقت کے بجائے مکالمے، انصاف اور عالمی قوانین کو ترجیح دیں تو شاید خلیج فارس کے پانیوں میں آگ کی بجائے امید کی لہریں اٹھ سکیں۔
ورنہ خطرہ یہ ہے کہ آج جو آگ ایک جزیرے تک محدود ہے، وہ کل پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔





Leave a Reply