خلیج فارس کا "یتیم موتی” آگ کی لپیٹ میں
تہران / واشنگٹن / خلیج فارس
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جب امریکہ نے ایران کے انتہائی اہم خارگ آئل جزیرے پر فضائی حملہ کیا۔ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے اور اندازوں کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
تقریباً 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ جزیرہ خلیج فارس کے شمالی حصے میں ایران کے صوبہ بوشہر سے تقریباً 28 کلومیٹر دور واقع ہے۔ایرانی ادیب جلال آل احمد نے اسے برسوں پہلے "خلیج فارس کا یتیم موتی” قرار دیا تھا۔
خارگ جزیرے پر موجود بڑے تیل ذخیرہ ٹینک، لوڈنگ ٹرمینل اور پائپ لائن نیٹ ورک ایران کے اہم تیل میدانوں — اہواز، مارون، گچساران، ابوذر، فروزان اور دورود — سے جڑے ہوئے ہیں۔یہ نظام ہر سال تقریباً 95 کروڑ بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے جزیرے پر موجود کئی فوجی اہداف کو تباہ کر دیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ فی الحال جزیرے کی مکمل تیل تنصیبات کو تباہ نہیں کیا گیا۔
امریکہ نے یہ کارروائی ایسے وقت کی ہے جب ایران نے خلیج فارس کے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کو محدود کرنے کی دھمکی دی ہے۔یہ آبی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل تجارت کا گزرگاہ ہے۔
عالمی منڈیوں میں اس کشیدگی کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس حملے کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟
عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…
Keep reading



Leave a Reply