25°
Sunny, April 18, 2026 in Kathmandu
کیا چیف الیکشن کمشنر کو ہٹایا جا سکتا ہے؟


فیچر مضمون

ہندوستانی جمہوریت کے ایک اہم سوال کی کہانی

سیّد اکبر زاہد

ہندوستان کی جمہوریت کا ایک ستون وہ ادارہ ہے جو ووٹ کی حرمت کی نگہبانی کرتا ہے — الیکشن کمیشن آف انڈیا۔ جب بھی انتخابات کی بات ہوتی ہے تو عوام کی نگاہیں اسی ادارے کی طرف اٹھتی ہیں، کیونکہ یہی وہ ادارہ ہے جو اقتدار کی تبدیلی کو قانونی اور پرامن راستہ فراہم کرتا ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ایک نیا سوال سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے: کیا چیف الیکشن کمشنر کو پارلیمنٹ کے ارکان کی درخواست پر برطرف کیا جا سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب ہندوستان کے آئین میں پوشیدہ ہے۔

آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا آسان نہیں۔ اسے اسی طریقے سے برطرف کیا جا سکتا ہے جس طریقے سے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف سیاسی اختلاف یا ناراضی کی بنیاد پر اسے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اس کے لیے ثابت شدہ بدسلوکی یا نااہلی کا الزام اور ایک طویل آئینی عمل ضروری ہوتا ہے۔

اسی آئینی تحفظ کے سبب چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر حکومت یا پارلیمنٹ کی سادہ اکثریت اسے بآسانی ہٹا سکتی، تو انتخابات کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے تھے۔ اسی لیے آئین نے اس عہدے کو ایک مضبوط حفاظتی حصار دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں تقریباً 193 ارکانِ پارلیمان نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایک نوٹس پر دستخط کیے ہیں۔ یہ قدم دراصل برطرفی کے عمل کی ابتدائی درخواست ہے۔ مگر یہ صرف آغاز ہے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق اس کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث اور ووٹنگ ہوگی، اور برطرفی کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

بھارت کی پارلیمنٹ میں تقریباً 788 ارکان ہیں۔ دو تہائی اکثریت کا مطلب ہے کہ برطرفی کی قرارداد کو تقریباً پانچ سو سے زیادہ ووٹوں کی حمایت درکار ہوگی۔ اس کے مقابلے میں 193 ارکان صرف ایک ابتدائی سیاسی پیغام ہیں، نہ کہ حتمی فیصلہ۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پارلیمانی طاقت کے توازن کو دیکھتے ہوئے ایسی قرارداد کا پاس ہونا آسان نہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عددی فرق اس بات کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان کی تاریخ میں اب تک کسی چیف الیکشن کمشنر کو اس آئینی طریقے سے برطرف نہیں کیا گیا۔

اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات سے نہیں بلکہ اداروں کی آزادی سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے آئین نے ایک ایسا نظام بنایا ہے جس میں جذبات یا وقتی سیاست کے بجائے وسیع اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سوال محض ایک قانونی بحث نہیں بلکہ جمہوریت کے فلسفے سے بھی جڑا ہوا ہے۔

کیونکہ آخرکار انتخابات صرف حکومتیں نہیں بناتے، بلکہ قوم کا اعتماد بھی تشکیل دیتے ہیں۔ اور اس اعتماد کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب انتخابی نظام کے نگہبان ادارے سیاسی طوفانوں کے باوجود مضبوطی سے کھڑے رہیں۔


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
مارچ 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading