فیچر مضمون
ہندوستانی جمہوریت کے ایک اہم سوال کی کہانی
سیّد اکبر زاہد
ہندوستان کی جمہوریت کا ایک ستون وہ ادارہ ہے جو ووٹ کی حرمت کی نگہبانی کرتا ہے — الیکشن کمیشن آف انڈیا۔ جب بھی انتخابات کی بات ہوتی ہے تو عوام کی نگاہیں اسی ادارے کی طرف اٹھتی ہیں، کیونکہ یہی وہ ادارہ ہے جو اقتدار کی تبدیلی کو قانونی اور پرامن راستہ فراہم کرتا ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ایک نیا سوال سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے: کیا چیف الیکشن کمشنر کو پارلیمنٹ کے ارکان کی درخواست پر برطرف کیا جا سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب ہندوستان کے آئین میں پوشیدہ ہے۔
آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا آسان نہیں۔ اسے اسی طریقے سے برطرف کیا جا سکتا ہے جس طریقے سے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف سیاسی اختلاف یا ناراضی کی بنیاد پر اسے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ اس کے لیے ثابت شدہ بدسلوکی یا نااہلی کا الزام اور ایک طویل آئینی عمل ضروری ہوتا ہے۔
اسی آئینی تحفظ کے سبب چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر حکومت یا پارلیمنٹ کی سادہ اکثریت اسے بآسانی ہٹا سکتی، تو انتخابات کی غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے تھے۔ اسی لیے آئین نے اس عہدے کو ایک مضبوط حفاظتی حصار دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں تقریباً 193 ارکانِ پارلیمان نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایک نوٹس پر دستخط کیے ہیں۔ یہ قدم دراصل برطرفی کے عمل کی ابتدائی درخواست ہے۔ مگر یہ صرف آغاز ہے۔ آئینی طریقہ کار کے مطابق اس کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث اور ووٹنگ ہوگی، اور برطرفی کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاملہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
بھارت کی پارلیمنٹ میں تقریباً 788 ارکان ہیں۔ دو تہائی اکثریت کا مطلب ہے کہ برطرفی کی قرارداد کو تقریباً پانچ سو سے زیادہ ووٹوں کی حمایت درکار ہوگی۔ اس کے مقابلے میں 193 ارکان صرف ایک ابتدائی سیاسی پیغام ہیں، نہ کہ حتمی فیصلہ۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پارلیمانی طاقت کے توازن کو دیکھتے ہوئے ایسی قرارداد کا پاس ہونا آسان نہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عددی فرق اس بات کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان کی تاریخ میں اب تک کسی چیف الیکشن کمشنر کو اس آئینی طریقے سے برطرف نہیں کیا گیا۔
اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات سے نہیں بلکہ اداروں کی آزادی سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے آئین نے ایک ایسا نظام بنایا ہے جس میں جذبات یا وقتی سیاست کے بجائے وسیع اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ یہ سوال محض ایک قانونی بحث نہیں بلکہ جمہوریت کے فلسفے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
کیونکہ آخرکار انتخابات صرف حکومتیں نہیں بناتے، بلکہ قوم کا اعتماد بھی تشکیل دیتے ہیں۔ اور اس اعتماد کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب انتخابی نظام کے نگہبان ادارے سیاسی طوفانوں کے باوجود مضبوطی سے کھڑے رہیں۔





Leave a Reply