25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
بموں کے سائے میں "اللہ اکبر” کی گونج — تہران کی سڑکوں پر خوف کے خلاف ایک قوم کا اعلان

خصوصی مضمون

از: سیّد اکبر زاہد

تہران میں اس جمعہ کا منظر تاریخ کے ان لمحوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جب ایک قوم نے خوف کے مقابلے میں حوصلے کو چن لیا۔

اسی دن جب اسرائیلی حملوں کی خبریں تہران کے آسمان میں گونج رہی تھیں اور شہر کے بعض علاقوں میں دھماکوں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی، ہزاروں ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے۔
یہ لوگ کسی خوف یا بھگدڑ کا شکار نہیں تھے۔

وہ یومِ القدس کے جلوس میں شریک تھے۔

ان کے ہاتھوں میں ایرانی اور فلسطینی پرچم تھے اور فضا میں ایک ہی صدا بلند ہو رہی تھی:

“اللہ اکبر!”

یہ منظر صرف ایک سیاسی اجتماع نہیں تھا بلکہ ایک علامتی اعلان تھا کہ بمباری کے سائے میں بھی ایک قوم اپنے موقف اور اپنے عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹتی۔

ایران کے قومی سلامتی کے سینئر رہنما علی لاریجانی بھی اس جلوس میں شریک ہوئے۔ انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی اور امریکی حملوں کو کمزوری کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے کہا:

“یہ حملے خوف اور بے بسی کا اظہار ہیں۔
جو واقعی طاقتور ہو، وہ عوامی جلوسوں پر بم نہیں برساتا۔”

لاریجانی کے مطابق یہ حملے دراصل ایران کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہیں، مگر تہران کی سڑکوں پر موجود عوام نے ثابت کر دیا کہ خوف ان کے قدم نہیں روک سکتا۔

اس دن کے مناظر نے ایک اہم حقیقت کو واضح کر دیا:
کہ ایرانی معاشرے میں مزاحمت صرف حکومت کا بیانیہ نہیں بلکہ ایک عوامی جذبہ بھی ہے۔

مرد، خواتین، نوجوان اور بزرگ — سب ایک ہی آواز میں نعرے لگا رہے تھے۔
“اللہ اکبر” کی صدائیں تہران کی فضا میں گونج رہی تھیں جبکہ عالمی میڈیا حملوں اور کشیدگی کی خبریں نشر کر رہا تھا۔

یہ تضاد خود ایک کہانی سناتا ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل،
دوسری طرف سڑکوں پر کھڑی ایک قوم۔

ایسے لمحوں میں تاریخ صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ عوام کے حوصلے سے لکھی جاتی ہے۔

اور تہران کے یومِ القدس نے دنیا کو یہی دکھایا کہ جب ایک قوم اپنے عقیدے اور موقف پر یقین رکھتی ہو تو بموں کی گرج بھی اس کے قدم نہیں ڈگمگا سکتی۔


“Allahu Akbar Under the Bombs — Tehran’s Streets Echoed with Defiance”

Friday in Tehran presented a striking image of defiance.

Even as reports emerged that Israeli strikes had targeted areas of the Iranian capital earlier that day, the city’s streets were not empty.

Instead, thousands of people gathered for the annual Quds Day march, the demonstration held each year in solidarity with the Palestinian cause.

What made the scene extraordinary was the atmosphere.

“These attacks are out of fear and desperation. Someone who is strong would not bomb demonstrations. It shows they have failed,” he said.

Rather than panic, the air was filled with chants of “Allahu Akbar.”

Men, women, and young people marched through Tehran carrying Iranian and Palestinian flags while expressing their support for Palestine and their defiance against external pressure.

Among the participants was senior Iranian national security figure Ali Larijani, who spoke to Iranian state television during the rally.

Larijani dismissed the recent Israeli-U.S. attacks as signs of weakness.

According to him, the strikes were meant to intimidate Iran.
But the large crowds in Tehran suggested a different reality.

Instead of retreating indoors during a moment of heightened tension, people chose to gather publicly and raise their voices.

The chants of “Allahu Akbar” echoed through the streets while the shadow of conflict hung over the city.

For many observers, the scene became more than just a political demonstration.
It was a symbolic display of national resilience.

In times of war, cities often fall silent with fear.

But in Tehran that day, the streets spoke loudly.

And the message was unmistakable:

A people who refuse to run from fear believe that courage itself is their strongest defense.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
مارچ 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading