الف نیوز شمارہ نمبر: 150؛ تاریخ: 14 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگ نے عالمی عسکری تجزیہ کاروں کو ایک نئے سوال کے سامنے کھڑا کر دیا ہے: کیا ایران نے روایتی جنگی توازن کو چیلنج کر دیا ہے؟ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران نے نہ صرف اسرائیل کے شہروں کو نشانہ بنایا بلکہ اس کے بعض ریڈار اور دفاعی نظام کو بھی متاثر کیا۔ یہ وہ پیش رفت ہے جسے کئی مبصرین خطے کی جنگی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیل طویل عرصے سے اپنی جدید فضائی دفاعی صلاحیتوں اور تکنیکی برتری کے باعث ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کے میزائل دفاعی نظام اور جدید نگرانی کے آلات اسے ایک مضبوط حفاظتی حصار فراہم کرتے رہے ہیں۔ مگر حالیہ حملوں نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا اس دفاعی دیوار میں پہلی بار واضح دراڑ پڑی ہے۔
ایران کی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ پیدا کرنا ہے۔ لبنان، شام، عراق اور یمن جیسے خطوں میں موجود اتحادی قوتوں کے باعث جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کو ایک ہی وقت میں مختلف سمتوں سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے، جس سے اس کی دفاعی صلاحیتیں تقسیم ہو جائیں۔
اسی کے ساتھ ایران کی کارروائیوں میں نفسیاتی جنگ کا عنصر بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ جب کسی ایسے ملک کو نشانہ بنایا جاتا ہے جس کی دفاعی طاقت کو دنیا طویل عرصے سے ناقابلِ شکست سمجھتی رہی ہو، تو اس کے اثرات صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور سیاسی بھی ہوتے ہیں۔ اس سے خطے کے طاقت کے توازن کے بارے میں نئی بحث جنم لیتی ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق ایران کی یہ حکمتِ عملی دراصل طویل المدت مزاحمتی جنگ کا حصہ ہے۔ اس میں فوری فتح سے زیادہ اہمیت دشمن کو مسلسل دباؤ میں رکھنے اور اس کی برتری کے تصور کو چیلنج کرنے کو دی جاتی ہے۔ اگر یہ اندازِ جنگ جاری رہتا ہے تو ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کی عسکری سوچ میں بنیادی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کا فیصلہ صرف ایک یا دو بڑے حملوں سے نہیں ہوتا۔ اس کے نتائج کا دارومدار طویل مدت، معیشت، عالمی سفارتکاری اور داخلی استحکام جیسے عوامل پر بھی ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حتمی فتح کس کے حصے میں آئے گی۔
لیکن ایک بات ضرور واضح ہو رہی ہے: اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کے بارے میں پرانے تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی شدت سے جاری رہا تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں خطے کی عسکری اور سیاسی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہو جائے۔
Editorial
A New Strategy of Resistance — Has Iran Shifted the Balance of War?
Syed Akbar Zahid
The ongoing conflict in the Middle East has raised a critical question among global military analysts: has Iran challenged the traditional balance of power in the region? Recent developments suggest that Iranian strikes have not only targeted Israeli cities but have also affected certain radar and defense systems. Many observers consider this an unusual development in the military history of the region.
For decades, Israel has been regarded as possessing one of the most advanced air defense systems in the world. Its missile defense networks and surveillance technologies have long been viewed as a powerful protective shield. Yet the recent strikes have sparked debate about whether that shield has experienced its first significant breach.
One notable aspect of Iran’s approach appears to be the creation of pressure across multiple fronts simultaneously. With allied groups present in regions such as Lebanon, Syria, Iraq, and Yemen, the conflict has the potential to expand geographically. This strategy could compel Israel to divide its defensive resources across several directions.
Another dimension of these developments is the psychological impact of the conflict. When a state widely perceived as militarily superior faces unexpected vulnerabilities, the consequences extend beyond the battlefield. They influence political narratives and perceptions of power across the region.
Some analysts argue that Iran’s approach reflects a long-term strategy of resistance, where the objective is not immediate victory but the gradual erosion of an opponent’s strategic confidence. If this pattern continues, it may reshape military thinking in the Middle East.
At the same time, wars are rarely decided by a few dramatic strikes. Their outcomes are influenced by long-term endurance, economic resilience, diplomacy, and internal stability. For this reason, it would be premature to declare a final victor.
What is becoming increasingly clear, however, is that the conflict has challenged long-standing assumptions about military balance in the Middle East. If the confrontation continues at its current intensity, it may well mark the beginning of a new chapter in the region’s strategic history.




Leave a Reply