تمل ناڈو کی سیاست میں نیا باب — وی کے سشی کلا نے نئی جماعت اور انتخابی نشان کا اعلان کر دیا
چنئی / نئی دہلی:
تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا کی دیرینہ رفیق اور سابق اے آئی اے ڈی ایم کے رہنما وی کے سشی کلا نے اپنی نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔
جمعہ کے روز سشی کلا نے اپنی جماعت کا نام
“آل انڈیا پروچی تھلائیور مکل منیترا کژگم”
(All India Puratchi Thalaivar Makkal Munetra Kazhagam)
رکھنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کا انتخابی نشان "ناریل کے درختوں کا باغ” ہوگا، جو ان کے بقول اتحاد، مشترکہ قوت اور اجتماعی ترقی کی علامت ہے۔ ساسیکالا نے کہا کہ ان کی جماعت ایک مشترکہ خاندان کی طرح کام کرے گی جہاں کارکن اور قیادت ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں گے۔
سشی کلا نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی جماعت آنے والے اسمبلی انتخابات میں تمل ناڈو اور پڈوچیری دونوں جگہ اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔
انہوں نے اپنے سیاسی سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا:
"میری موجودہ صورتحال کچھ حد تک ہمارے رہنما ایم جی رام چندرن جیسی تھے۔جو کبھی ایک کارکن کی قائم کردہ جماعت سے وابستہ ہوئے تھے۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق تمل ناڈو کی سیاست پہلے ہی مختلف جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کا میدان بنی ہوئی ہے، اور ساسیکالا کی نئی جماعت آنے والے انتخابات میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
New Chapter in Tamil Nadu Politics — VK Sasikala Announces New Party and Election Symbol
Chennai / New Delhi:
Tamil Nadu’s political landscape witnessed a new development on Friday as VK Sasikala, a long-time aide of former chief minister J. Jayalalithaa and former member of the AIADMK, announced the formation of her new political party.
Sasikala revealed that the party will be called “All India Puratchi Thalaivar Makkal Munetra Kazhagam.”
She also announced that the party’s election symbol will be a “coconut tree farm,” which she described as a representation of unity, collective strength, and shared growth. According to her, the organisation will function like a joint family, reflecting cooperation between leadership and party workers.
Sasikala further stated that the new party plans to contest the upcoming assembly elections in Tamil Nadu and Puducherry.
Reflecting on her political journey, she remarked:
“I am in a situation similar to that of our leader M.G. Ramachandran, who once joined a party started by a cadre.”
Political observers believe that the entry of Sasikala’s new party could add another dimension to the already competitive political environment in Tamil Nadu ahead of the elections.





Leave a Reply