امریکہ کے سخت حملوں کی دھمکی — ایران کا اعلانِ مزاحمت
عالمی خبر | 7 مارچ 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے اور صورتحال مسلسل مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے جبکہ خطے کے کئی ممالک اس بحران کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی “دنیا کے لئے ایک خدمت” ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب تک 42 ایرانی جنگی بحری جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ہتھیار نہ ڈالے تو امریکہ “بہت سخت حملے” کرے گا۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ایران کبھی “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” پر آمادہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی کارروائیاں صرف ان مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں، خصوصاً امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرنا چاہتا جب تک وہاں سے ایران پر حملے نہ کیے جائیں۔
اسرائیل کا دعویٰ: ایرانی طیارے تباہ
اسرائیلی فوج کے مطابق تہران میں رات کے وقت ہونے والے حملوں میں ایران کے 16 فوجی طیارے تباہ کر دیے گئے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں سے ایران کی قدس فورس مبینہ طور پر مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی گروہوں کو مدد فراہم کرتی تھی۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔
خلیجی خطے میں خطرے کی گھنٹیاں
جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے لگے ہیں۔
- بحرین میں خطرے کے سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دی گئی۔
- ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیج فارس میں Marshall Islands کے جھنڈے والے ایک آئل ٹینکر "Louise P” کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا۔
- اسی دوران کویت نے کشیدگی کے پیش نظر احتیاطی طور پر اپنی تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کیا ہے۔
عالمی سفارتکاری کی کوششیں
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر سے گفتگو میں ایران کے مسئلے پر مذاکرات کے راستے تلاش کرنے پر زور دیا۔
اسی طرح لبنان کے صدر جوزف عون نے فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون سے رابطہ کر کے اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
ادھر لندن میں ہزاروں افراد نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر بمباری کے خلاف احتجاج کیا اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
انسانی بحران اور انخلاء
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 28 ہزار امریکی شہری مشرقِ وسطیٰ سے واپس امریکہ منتقل کیے جا چکے ہیں۔ اس کے لئے خصوصی چارٹر پروازوں کا بھی انتظام کیا گیا۔
جنگ کے اخلاقی سوال
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے آزادی اسپورٹس کمپلیکس کو بھی حملے میں نقصان پہنچا، جس پر ایرانی وزارت خارجہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایران کے ترجمان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس ملک کے صدر کو “امن کا ایوارڈ” دیا گیا، وہی ملک اب کھیل کے میدانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
پیغامِ انسانیت
جنگیں صرف فوجی قوت کی آزمائش نہیں ہوتیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کا امتحان بھی ہوتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ اگر نہ بجھی تو اس کی چنگاریاں دنیا کے ہر گوشے کو چھو سکتی ہیں۔





Leave a Reply