25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
جمہوریت: اداروں سے نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہے

الف نیوز شمارہ نمبر:134; تاریخ: 25 فروری 2026; مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

“وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”
(اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی)


جمہوریت کو اکثر ہم عمارتوں میں تلاش کرتے ہیں — پارلیمنٹ کی گنبدوں میں، عدالتوں کی کرسیوں میں، اور آئین کی جلدوں میں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت کا اصل مسکن اینٹ اور پتھر نہیں، بلکہ انسان کا بیدار ضمیر ہے۔

آئین راستہ دکھاتا ہے، ادارے نظام چلاتے ہیں، مگر جمہوریت کو زندگی ان افراد سے ملتی ہے جو انسانی وقار کے دفاع کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جب کوئی شہری ظلم کے سامنے خاموشی توڑتا ہے، تو وہ محض ایک احتجاج نہیں کرتا — وہ جمہوریت کے جسم میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔

ایک معاشرہ اُس وقت بالغ کہلاتا ہے جب اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا اور تنقید کو بغاوت نہیں کہا جاتا۔ جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ وہ کمزور کی آواز کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتی ہے جتنی طاقتور کی تقریر کو۔

ہماری تاریخ میں ایسے بے شمار لمحے موجود ہیں جب کسی ایک فرد کے اخلاقی فیصلے نے پورے نظام کو آئینہ دکھایا۔ یہ افراد نہ کسی منصب کے محتاج تھے، نہ کسی سرکاری اختیار کے۔ ان کا واحد سرمایہ سچائی پر یقین اور انسانی عزت کا احترام تھا۔

آج کے عہد میں، جب سیاسی بیانیے تیز اور سوشل میڈیا کی آوازیں بلند ہیں، ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت کا استحکام شور سے نہیں، شعور سے وابستہ ہے۔ ادارے ضروری ہیں، مگر ان کی روح تب تک سلامت نہیں رہتی جب تک معاشرے میں انصاف اور احترامِ انسانیت کا جذبہ زندہ نہ ہو۔

جمہوریت قانون سے چلتی ہے، مگر ضمیر سے رہتی ہے۔
وہ کاغذ پر لکھی شقوں سے زیادہ، دل میں لکھی اقدار کی محتاج ہے۔

اگر ہم واقعی ایک مضبوط جمہوری معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف اداروں کی اصلاح پر نہیں، کردار کی تعمیر پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ کیونکہ آخرکار، جمہوریت کی اصل طاقت ووٹ کی پرچی میں نہیں، بلکہ اُس ہاتھ میں ہوتی ہے جو ظلم کے خلاف اٹھتا ہے۔


Editorial

Qur’an

“Indeed, We have honoured the children of Adam.” (17:70)


Democracy Lives Not by Institutions Alone, But by Character

Democracy is often associated with grand institutions — parliaments, courts, and constitutions bound in leather and law. Yet history reminds us that its true dwelling place is not in stone buildings, but in awakened human conscience.

Constitutions provide direction, institutions administer order, but democracy draws its life from individuals who dare to defend human dignity. When a citizen refuses silence in the face of injustice, it is not merely an act of protest; it is an act of renewal for the republic itself.

A mature society does not fear dissent. It does not label criticism as rebellion. The beauty of democracy lies in its capacity to value the voice of the powerless as much as the speech of the powerful.

Throughout history, transformative moments have often been shaped not by authority, but by moral courage. These individuals held no extraordinary office; their authority flowed from conviction, integrity, and respect for human dignity.

In an age of amplified narratives and relentless public discourse, we must remember that democracy is sustained not by noise, but by awareness. Institutions are necessary, but their spirit survives only when justice and respect for humanity remain alive within society.

Democracy may operate through law, but it endures through conscience.
It depends not merely on written clauses, but on lived values.

If we aspire to a resilient democratic order, we must invest not only in institutional reform, but in the cultivation of character. For ultimately, the strength of democracy does not rest in the ballot alone, but in the hand that rises to defend dignity.



Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading