25°
Sunny, April 18, 2026 in Kathmandu
چنئی کی روشن روایت — والاجاہی بڑی مسجد میں سندھی برادری کا مشترکہ افطار


چنئی کی تاریخی Wallajah Big Mosque میں رمضان المبارک کے مقدس ایام کے دوران ایک ایسی روایت زندہ ہے جو فرقوں، طبقات اور مذاہب کی حدوں سے بلند ہو کر انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔ گزشتہ چالیس برسوں سے سندھی برادری کے افراد یہاں روزانہ افطار کا اہتمام کرتے آ رہے ہیں۔

چنئی کے صوفی دار مندر سے وابستہ ایک سو سے زائد سندھی افراد رمضان کے تمام تیس دن تقریباً ایک ہزار روزہ داروں کے لیے افطار تیار کرتے اور اپنے ہاتھوں سے پیش کرتے ہیں۔ اس دستر خوان پر امیر و غریب، سب ایک ساتھ بیٹھتے ہیں۔ یہاں کوئی بڑا یا چھوٹا نہیں — سب روزہ دار ہیں، سب انسان ہیں، سب برابر ہیں۔

پرنس آف آرکاٹ، Nawab Mohammed Abdul Ali نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ چار دہائیوں پر محیط روایت ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان عملی ہم آہنگی کی روشن مثال ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب فرقہ پرستی کی بازگشت سنائی دیتی ہے، سندھی برادری کی یہ روایت روشنی کی ایک کرن بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اتحاد محض تقریروں میں نہیں بلکہ مشترکہ دستر خوان پر پروان چڑھتا ہے۔

یہ مسجد دو صدی قبل نوابِ کرناٹک Muhammad Ali Wallajah نے تعمیر کروائی تھی، اور آج بھی یہ عبادت، تاریخ اور تہذیبی ہم آہنگی کی علامت ہے۔

یہ روایت اجتماعی یگانگت، روحانی مساوات اور مشترکہ انسانیت کا جشن ہے۔ سندھی برادری برسوں سے اس چراغ کو روشن رکھے ہوئے ہے — اور یہ چراغ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تکثیری روح اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔


English News

At the historic Wallajah Big Mosque in Chennai, a remarkable tradition continues to illuminate the spirit of Ramadan. For over four decades, members of the Sindhi community have been organising and personally serving Iftar at the mosque every single day of the holy month.

More than 100 members associated with the Sufidar Temple prepare and serve meals to nearly 1,000 people each evening. At this shared table, the rich and the poor sit side by side. There is no hierarchy — only fasting believers united in faith and humanity.

In his message, the Prince of Arcot, Nawab Mohammed Abdul Ali, described the tradition as a living example of communal harmony between Hindus and Muslims. At a time when sectarian divisions often dominate public discourse, this enduring practice shines as a ray of hope. It reminds society that unity is not merely proclaimed — it is practised through shared spaces, shared meals, and shared respect.

Built over two centuries ago by Muhammad Ali Wallajah, the mosque continues to stand as a symbol of faith, heritage, and cultural harmony.

This is not charity; it is a celebration of collective unity, spiritual equality, and shared humanity — a tradition that keeps alive the pluralistic spirit that defines India at its best.

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading