25°
Sunny, April 18, 2026 in Kathmandu
جمہوریت: اقتدار نہیں، اقدار کا نام

الف نیوز شمارہ نمبر: 132: تاریخ: 23.02.2026؛ مدیرِ اعلِی: سّید اکبر زاہد

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

ہندوستان کی جمہوریت ایک خواب بھی ہے اور ایک عہد بھی۔ یہ خواب اس وقت شرمندۂ تعبیر ہوتا ہے جب ہر شہری خود کو برابر سمجھے، اور یہ عہد اس وقت پورا ہوتا ہے جب اقتدار قانون کے تابع رہے، قانون اقتدار کے تابع نہ ہو۔

آج کی فضا میں ایک سوال گونج رہا ہے: کیا جمہوریت صرف اکثریت کے عددی غلبے کا نام ہے؟ یا وہ ایک اخلاقی معاہدہ ہے جس میں اختلافِ رائے کو بھی عزت حاصل ہوتی ہے؟ اگر سیاست کا مقصد صرف ایک جماعت کی دائمی حکمرانی بن جائے، تو جمہوریت کی روح بتدریج کمزور پڑنے لگتی ہے۔

نفرت، خوف اور دھمکی وقتی ہتھیار ہو سکتے ہیں، مگر یہ قوموں کی تقدیر نہیں بن سکتے۔ قومیں دلیل، انصاف اور برداشت سے بنتی ہیں۔ آئین محض ایک کتاب نہیں، بلکہ اجتماعی ضمیر کی آواز ہے۔ جب تک عدالتیں آزاد، میڈیا ذمہ دار، اور ووٹر بیدار رہیں گے، جمہوریت کی شمع بجھ نہیں سکتی۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کون اقتدار میں ہے؛
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار آئین کے تابع ہے؟

جمہوریت کی حفاظت نعروں سے نہیں، اخلاقی استقامت سے ہوتی ہے۔ اگر شہری اپنے حقِ رائے دہی کو مقدس امانت سمجھیں، اگر سیاسی اختلاف دشمنی میں نہ بدلے، اور اگر اختلاف کو غداری نہ کہا جائے — تو کوئی بھی طاقت جمہوریت کو کمزور نہیں کر سکتی۔

جمہوریت اکثریت کی حکمرانی ضرور ہے، مگر اقلیت کے احترام کے بغیر ادھوری ہے۔
اقتدار بدل سکتا ہے، مگر اقدار باقی رہنی چاہئیں۔


Editorial

Democracy: Not the Rule of Power, but the Power of Principles

India’s democracy is both a promise and a responsibility. It thrives not merely on electoral victories, but on constitutional morality and institutional balance.

A pressing question confronts the nation today: Is democracy only about numerical majority, or is it a moral covenant that protects dissent as fiercely as it celebrates mandate? When politics begins to revolve around perpetual dominance by any one party, the spirit of democracy risks gradual erosion.

Hatred and intimidation may serve as temporary political tools, but they cannot shape the destiny of a plural society. Nations endure through justice, restraint, and respect for diversity. A constitution is not just a document; it is the collective conscience of the people.

The real test is not who holds power —
but whether power remains accountable to the Constitution.

Democracy is safeguarded not by slogans, but by civic vigilance. When courts remain independent, media responsible, and citizens aware of their rights and duties, no single force can eclipse democratic light.

Majority rule is legitimate;
majoritarian arrogance is not.

Power may change hands —
principles must endure.

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading