تاریخ: 18 فروری 2026
w
ممبئی: الف نیوز
مہارشٹرا کی حکومت نے 17 فروری 2026 کو ایک سرکاری حکم جاری کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے مجوزہ 5 Atty ریزرویشن سے متعلق ذات کی تصدیق اور ویلیڈیشن کے تمام انتظامی اقدامات کو منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ اگرچہ زمینی سطح پر فوری تبدیلی کا باعث نہیں بنا، لیکن عملی طور پر سرکاری و نیم سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مسلم ریزرویشن کے باب کو باضابطہ طور پر بند کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
پس منظر: 2014 کا آرڈیننس اور قانونی رکاوٹیں
سن 2014 میں کانگریس-این سی پی حکومت نے مراٹھا اور مسلم طبقات کو سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ طبقہ (SEBC) قرار دیتے ہوئے بالترتیب 16 فیصد اور 5 فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کے وزیر Arif Naseem Khan نے انتخابات سے قبل اس اعلان کو پیش کیا تھا۔
مسلم ریزرویشن کی بنیاد سابقہ Sachar Committee کی سفارشات میں بھی دیکھی جاتی تھی، جس نے مسلمانوں کی سماجی و تعلیمی پسماندگی کی نشاندہی کی تھی۔
تاہم:
- آرڈیننس 23 دسمبر 2014 کو قانونی مدت مکمل ہونے پر ختم ہو گیا۔
- نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اسے قانون کی شکل نہ دی جا سکی۔
- معاملہ Bombay High Court میں بھی چیلنج ہوا، جہاں ملازمتوں میں 5 فیصد ریزرویشن پر روک لگا دی گئی تھی، جبکہ تعلیم میں عارضی اجازت دی گئی تھی۔
چونکہ آرڈیننس خود ہی ختم ہو چکا تھا، اس لیے تعلیمی ریزرویشن بھی عملی طور پر نافذ نہ ہو سکا۔
اب 2026 میں حکومت نے 2014 اور 2015 کے تمام متعلقہ سرکاری احکامات باضابطہ طور پر واپس لے لیے ہیں۔
سیاسی ردِعمل
اپوزیشن نے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔ این سی پی (ایس پی) کے ترجمان کلائیڈ کرسٹو نے اسے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا، جبکہ حکمراں اتحاد کے رہنما کرشنا ہیگڑے نے سابق حکومت کو عارضی آرڈیننس لانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے "پسماندہ طبقات کے مکمل حقوق بحال کیے ہیں۔”
الف نیوز تجزیہ
یہ فیصلہ محض ایک تکنیکی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے سماجی اور سیاسی اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا ریزرویشن صرف انتخابی وعدہ تھا؟
یا یہ ایک دیرینہ سماجی مطالبہ تھا جو قانونی پیچیدگیوں میں الجھ کر رہ گیا؟
ہندوستان میں ریزرویشن کا نظام تاریخی ناانصافیوں کے ازالے کے لیے وضع کیا گیا تھا۔ ایسے میں کسی بھی طبقے کے مطالبے کو صرف سیاسی تناظر میں دیکھنا مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
عدل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر فیصلہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے، شفاف تحقیق اور سماجی ہم آہنگی کے ساتھ کیا جائے۔
📰 ALIF NEWS
Special Report | February 18, 2026
Maharashtra Formally Withdraws Muslim Reservation Process
The Government of Maharashtra has officially scrapped the administrative process related to caste verification and validation for the proposed 5% Muslim reservation. While the quota had not been implemented due to legal hurdles since 2014, the latest order formalizes its withdrawal in government and semi-government jobs as well as in education.
Background
In 2014, the Congress-NCP government had declared 16% reservation for Marathas and 5% for Muslims under the SEBC category. The move, announced by then minister Arif Naseem Khan, was based partly on socio-economic findings, including observations similar to those made by the Sachar Committee.
However:
- The ordinance lapsed in December 2014.
- The succeeding government did not convert it into law.
- The matter was challenged before the Bombay High Court, which stayed the job quota and allowed limited educational reservation — though it never took effect after the lapse of the ordinance.
The 2026 order now rescinds all related government directives issued in 2014–2015.
Political Reactions
Opposition leaders have criticized the move as discriminatory, while ruling alliance representatives argue that the previous government’s temporary ordinance created confusion and that the present decision merely clarifies the legal position.
Editorial Reflection
Beyond legality lies a deeper question of social justice. Reservation in India has historically aimed at correcting structural inequalities. Whether this step represents administrative clarity or a missed opportunity for inclusion will depend on future policy direction and constitutional deliberation.
Justice must not merely be declared — it must be felt.




Leave a Reply