25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
ہندوستان–امریکہ تجارتی معاہدہ: منڈیوں میں نئی آمد، کھیتوں میں پرانی تشویش


ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا نیا تجارتی فریم ورک بظاہر منڈیوں کی توسیع اور برآمدات کے فروغ کی نوید لاتا ہے، مگر اس کے سائے میں کسانوں کے کھیتوں پر سوالیہ نشان بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مرکزی وزیرِ تجارت Piyush Goyal کے مطابق یہ معاہدہ ہندوستانی کسانوں کے مفادات کے مکمل تحفظ کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے، اور کسی بھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) خوراک کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

معاہدے کے تحت امریکی زرعی مصنوعات — جن میں بادام، اخروٹ، پستہ، سیب، اورنج، بیریز، سویا بین آئل اور شراب شامل ہیں — کو ہندوستانی منڈی میں صفر یا نہایت کم محصولات کے ساتھ داخلے کی راہ ملے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گندم، چاول، دودھ، پولٹری، مکئی اور دیگر بنیادی زرعی اجناس کو مکمل تحفظ دیا گیا ہے، مگر ناقدین کے نزدیک یہ فرق “اسٹیپل” اور “نان اسٹیپل” کی حد بندی تک محدود نہیں رہتا۔

اپوزیشن جماعتوں نے اس معاہدے کو کسان دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سستی درآمدات مقامی پیداوار کو غیر مساوی مقابلے میں دھکیل دیں گی۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق یہ معاہدہ معاشی خودداری سے زیادہ سیاسی مصلحت کا عکاس ہے۔

ادھر ایک اور پہلو عالمی سیاست کی کروٹ بھی دکھاتا ہے۔ امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر دوبارہ پابندیوں کا عندیہ اس معاہدے کو محض تجارت نہیں بلکہ دباؤ کی سفارت کاری بنا دیتا ہے۔ معاہدے میں شامل وہ شق، جس کے تحت فریقین ٹیرف میں تبدیلی پر وعدوں پر نظرثانی کر سکتے ہیں، آنے والے دنوں میں غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

الف نیوز کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی اشیاء آئیں گی یا جائیں گی، بلکہ یہ ہے کہ
کیا منڈی کی وسعت کسان کی وسعتِ حیات بھی بنے گی؟
یا پھر یہ سودا بھی اعداد و شمار میں کامیاب اور زمین پر خاموش ہار ثابت ہوگا؟


The newly announced India–US trade framework is being projected as a gateway to expanded markets and export growth. Yet beneath the language of opportunity lies a growing unease across India’s agrarian landscape.

Commerce Minister Piyush Goyal has asserted that Indian farmers remain “fully protected,” stressing that genetically modified (GM) food will not be permitted into the country. According to the government, staple agricultural products such as wheat, rice, maize, dairy, poultry, and ethanol remain outside the scope of concessions.

However, the agreement opens India’s markets—at zero or sharply reduced tariffs—to a range of US products, including almonds, walnuts, pistachios, apples, berries, soybean oil, and premium wines and spirits. While officially categorized as non-staple imports, critics argue that these goods directly affect price stability and farmer incomes, particularly in horticulture and allied sectors.

Opposition leaders have condemned the deal as one-sided, warning that an influx of subsidized American agricultural produce could distort domestic markets and marginalize Indian farmers. For them, the agreement reflects political accommodation rather than economic balance.

The geopolitical undertone is equally hard to ignore. US President Donald Trump has hinted at renewed punitive tariffs should India alter its stance on Russian oil imports. A clause allowing either side to revise commitments if tariffs change further adds to the uncertainty, blurring the line between trade cooperation and strategic pressure.

From Alif News’ perspective, the core issue extends beyond tariffs and trade flows.
The real question is whether market access will translate into livelihood security—or whether farmers will once again bear the quiet cost of global bargaining.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
فروری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading