(این ڈی ٹی وی کے حوالے سے)
مرکزی حکومت گورنروں اور اداروں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے: ادھیانیدی اسٹالن
تمل ناڈو کے نائب وزیرِ اعلیٰ Udhayanidhi Stalin نے مرکز پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت تفتیشی اداروں اور ریاستی گورنروں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستان کی وفاقی روح اور جمہوری ڈھانچہ کمزور ہو رہا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے زیرِ اہتمام تمل ناڈو سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت DMK جس دراوڑی ماڈل کی علمبردار ہے، وہی ماڈل ہندوستان کو ایک مضبوط، منصف اور باوقار قوم بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نظریہ تقسیم نہیں بلکہ شمولیت، مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی ہے۔
ادھیانِدھی اسٹالن نے قومی تعلیمی پالیسی اور تین زبانوں کے فارمولے کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ہندی اور سنسکرت کو بالواسطہ طور پر ریاست پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندی کا غلبہ صرف تمل ناڈو ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی لسانی تنوع کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ شمالی ہندوستان میں کئی مقامی زبانیں اسی دباؤ کے باعث تقریباً معدوم ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وزیرِ اعلیٰ MK Stalin نے ہندی مسلط کیے جانے کے خلاف آواز بلند کی تو اس کی بازگشت ریاست کی سرحدوں سے نکل کر پورے ملک میں سنائی دی، کیونکہ یہ مسئلہ محض زبان کا نہیں بلکہ شناخت، وقار اور خودمختاری کا ہے۔
مرکز کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ تمل ناڈو کو تعلیمی شعبے کے لیے واجب الادا تقریباً 3,500 کروڑ روپے تاحال فراہم نہیں کیے گئے، حتیٰ کہ قدرتی آفات کے دوران امدادی رقوم بھی روکی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاستی حکومت نے فلاحی منصوبوں کو بے مثال سطح تک پہنچایا ہے۔
ادھیانِدھی اسٹالن نے کہا کہ مرکز کی موجودہ سوچ “ایک ملک، ایک ثقافت، ایک زبان” کے تصور پر مبنی ہے، جو ریاستوں کے وجود اور اختیارات کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول، BJP ریاستی حکومتوں کو دہلی سے کنٹرول ہونے والے اداروں میں بدلنا چاہتی ہے، جو ہندوستان جیسے متنوع ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی فی کس آمدنی قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، غربت کی شرح ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے، اور ریاست 2030 تک ایک ٹریلین ڈالر معیشت بننے کی سمت گامزن ہے۔ ان کے مطابق “سمادھرم” — یعنی مساوات، انصاف اور ذات پات سے پاک معاشرہ — ہی دراوڑی نظریے کی روح ہے، اور یہی ہندوستان کے مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔





Leave a Reply