25°
Sunny, April 24, 2026 in Kathmandu
اسلحے کی زبان اور امن کی خاموشی

الف نیوز شمارہ نمبر:110؛ تاریخ: 1 فروری 2025؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں خبریں محض اطلاعات نہیں رہتیں بلکہ آنے والے اندیشوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہیں۔ ایران میں دو مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکے ہوں یا امریکہ کی جانب سے اسرائیل اور سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے اسلحے کی منظوری—یہ سب واقعات الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے سائے ایک ہی خطے پر گہرے ہو رہے ہیں۔

ایران کے شہروں میں گونجنے والے دھماکوں کی وجوہات ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہیں، مگر ان کی آواز صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ آوازیں ایک ایسے ماحول میں سنائی دے رہی ہیں جہاں پہلے ہی بداعتمادی، خوف اور عسکری دباؤ موجود ہے۔ جب ہر حادثہ فوری طور پر عالمی سیاست کے ترازو میں تولا جانے لگے، تو حقیقت اور قیاس کے درمیان فاصلہ کم ہونے لگتا ہے—اور یہی لمحہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

دوسری جانب، امریکہ کی طرف سے جدید اسلحے کی نئی کھیپ کی منظوری، بظاہر اتحادیوں کے دفاع کو مضبوط بنانے کا قدم ہے، مگر اس کا نفسیاتی اثر کہیں زیادہ وسیع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جہاں امن پہلے ہی نایاب شے بن چکا ہے، وہاں مزید اسلحہ توازن نہیں بلکہ اضطراب کو جنم دیتا ہے۔ طاقت کے مظاہرے اکثر سلامتی کے نام پر ہوتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ بندوق کی نال سے امن شاذ ہی نکلتا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی کی باتیں، ایران کے گرد بڑھتی فوجی نقل و حرکت، اور خلیج میں دفاعی نظاموں کی تنصیب—یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں انسان، عام شہری، سب سے آخر میں آتا ہے۔ وہی شہری جو دھماکوں میں جان گنواتا ہے، جو مہنگائی، بے روزگاری اور خوف کے درمیان زندگی گزارتا ہے، اور جس کے لیے عالمی فیصلے صرف خبروں کی سرخیوں میں آتے ہیں۔

الف نیوز یہ سوال اٹھانے کی جسارت کرتا ہے:
کیا دنیا واقعی امن کی خواہاں ہے، یا امن صرف ایک نعرہ ہے جسے اسلحے کے سودوں کے درمیان دہرا دیا جاتا ہے؟

اگر خطے میں استحکام مطلوب ہے تو اس کے لیے میزائلوں سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے، اور دفاعی معاہدوں سے زیادہ اعتماد سازی کی۔ بصورتِ دیگر، ہر نئی خبر پچھلی سے زیادہ سنگین ہوگی—اور ہر خاموشی، آنے والے شور کا اشارہ۔

آج کا اداریہ کسی ایک ملک، ایک حکومت یا ایک فیصلے کے خلاف نہیں، بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو طاقت کو حل اور انسان کو ثانوی سمجھتی ہے۔ کیونکہ جب تاریخ لکھی جائے گی، تو یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ کس کے پاس کتنا اسلحہ تھا—بلکہ یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ کس نے امن کے لیے آواز اٹھائی تھی۔


Image
Image

علامتی نوٹ (الف نیوز):
یہ تصویر جنگ یا کسی مخصوص واقعے کی نہیں، بلکہ اس خاموش سوال کی علامت ہے جو آج پوری دنیا کے سامنے کھڑا ہے:
کیا ہم واقعی امن چاہتے ہیں، یا صرف اس کی بات کرنا جانتے ہیں؟

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading