تمل ناڈو سیاست کا نیا موڑ
تمل ناڈو کی سیاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات 2026 کے تناظر میں سیاسی جوڑ توڑ تیز ہو چکا ہے۔ حکمراں جماعت دراؤڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) اور آنجہانی اداکار وجے کانت کی جماعت دیشیا مرپوکو دراوڑ کزگم (ڈی ایم ڈی کے) کے درمیان اتحاد سے متعلق بات چیت جاری ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق ڈی ایم ڈی کے کی جنرل سیکریٹری پریمالتا وجے کانت نے ڈی ایم کے قیادت کے سامنے ایک راجیہ سبھا نشست کے ساتھ ساتھ اسمبلی کی دو عددی نشستوں کا مطالبہ رکھا ہے۔ تاہم ڈی ایم کے قیادت اس مطالبے کو حقیقت پسندانہ دائرے میں محدود رکھنا چاہتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایم کے ایک راجیہ سبھا نشست دینے پر غور کر رہی ہے، جبکہ اسمبلی کی چھ نشستیں پیش کی جا سکتی ہیں، جنہیں سات تک بڑھانے کا امکان بھی زیرِ غور ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق اس سے زیادہ نشستیں دینا ممکن نہیں۔
ڈی ایم کے کے ایک سینئر رہنما کے مطابق، ڈی ایم ڈی کے کے لیے کامیابی کے امکانات اسی صورت میں روشن ہیں جب وہ ڈی ایم کے اتحاد کا حصہ بنے، کیونکہ اے آئی اے ڈی ایم کے–بی جے پی اتحاد کے ساتھ جانے کی صورت میں اس کی سیاسی حیثیت کمزور ہو سکتی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اے آئی اے ڈی ایم کے اپنا انتخابی اتحاد پہلے ہی حتمی شکل دے چکے ہیں، جس کے اعلان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی نمایاں رہی۔ ڈی ایم ڈی کے اس اتحاد سے دور رہی، کیونکہ نشستوں پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا۔
یہ سیاسی منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ تمل ناڈو میں اتحاد محض اعداد کا کھیل نہیں بلکہ وقار، بقا اور مستقبل کی سیاست کا امتحان ہے۔
Tamil Nadu: Political negotiations have entered a decisive phase
As Tamil Nadu prepares for the 2026 Assembly elections, political negotiations have entered a decisive phase. The ruling Dravida Munnetra Kazhagam (DMK) is continuing discussions with the late actor Vijayakant’s party, the Desiya Murpokku Dravida Kazhagam (DMDK), over a possible alliance.
Sources indicate that DMDK General Secretary Premallatha Vijayakant has demanded a Rajya Sabha seat along with a double-digit number of Assembly constituencies. While the DMK is willing to consider a Rajya Sabha seat, it remains firm on limiting Assembly seat allocation.
According to senior DMK leaders, the party is prepared to offer six Assembly seats, with a possible extension to seven. “We cannot go beyond that,” a leader stated, adding that DMDK’s electoral prospects are significantly stronger within the DMK-led alliance than outside it.
The AIADMK–Bharatiya Janata Party (BJP) alliance has already been finalised for the 2026 polls, with its formal launch attended by Prime Minister Narendra Modi. DMDK stayed away after failing to secure a satisfactory seat-sharing agreement.
The unfolding talks underline that in Tamil Nadu, alliances are shaped not merely by numbers, but by political relevance, survival, and strategic foresight.





Leave a Reply