مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں ایک اہم عسکری پیش رفت
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے دو قریبی اتحادیوں، Israel اور Saudi Arabia، کو بھاری مالیت کے اسلحہ کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، اسرائیل کو مجموعی طور پر 6.67 ارب ڈالر جبکہ سعودی عرب کو 9 ارب ڈالر مالیت کے دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں Iran کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور امریکہ کی جانب سے ممکنہ فوجی اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
سعودی عرب کو کیا ملے گا؟
سعودی عرب کو اس معاہدے کے تحت 730 پیٹریاٹ میزائل اور ان سے متعلقہ دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ نظام خلیجی خطے میں فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے اور اس سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سلامتی میں بھی اضافہ ہوگا۔
اس اعلان سے قبل سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
اسرائیل کے لیے چار علیحدہ پیکجز
اسرائیل کے لیے اسلحہ کی فروخت کو چار مختلف پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سب سے نمایاں 30 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر ہیں، جو جدید ہدف شناسی نظام اور راکٹ لانچرز سے لیس ہوں گے۔ اس پیکج کی مالیت تقریباً 3.8 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیلی دفاعی افواج کو 3,250 ہلکی ٹیکٹیکل گاڑیاں فراہم کی جائیں گی، جو اہلکاروں اور رسد کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوں گی۔ اس حصے کی لاگت 1.98 ارب ڈالر ہے۔ مزید برآں، بکتر بند گاڑیوں کے لیے پاور پیکس اور چند ہلکے یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔
سیاسی اعتراضات اور کانگریس کی تشویش
امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے ان معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ Donald Trump کی انتظامیہ نے کانگریس کی نگرانی کے روایتی عمل کو نظرانداز کیا ہے۔ ان کے مطابق، غزہ کی آئندہ صورتحال اور امریکہ۔اسرائیل پالیسی پر کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر اسلحہ کی منظوری تشویشناک ہے۔
غزہ جنگ اور امریکی مؤقف
یہ اسلحہ معاہدے ایسے وقت میں طے پائے ہیں جب صدر ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کا خاتمہ اور تباہ شدہ فلسطینی علاقوں کی تعمیرِ نو ہے۔ اگرچہ جنگ بندی بڑی حد تک قائم ہے، تاہم اس کے اگلے مراحل میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور بین الاقوامی نگرانی جیسے پیچیدہ مسائل درپیش ہیں۔
امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ نئی فروخت خطے میں عسکری توازن کو متاثر نہیں کرے گی، بلکہ اسرائیل کو اپنے سرحدی دفاع، اہم تنصیبات اور شہری آبادی کے تحفظ میں مزید مضبوط بنائے گی۔
الف نیوز تجزیہ
یہ معاہدے محض اسلحہ کی فروخت نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن، سفارتی دباؤ اور ممکنہ تصادم کے امکانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جو پہلے ہی جنگوں اور عدم استحکام سے نبرد آزما ہے، ایک بار پھر اسلحے کے سائے میں اپنی تقدیر لکھتا دکھائی دیتا ہے۔



علامتی نوٹ (الف نیوز):
یہ تصویر کسی ایک معاہدے یا ملک کی نمائندہ نہیں، بلکہ اس خطے کی علامت ہے جہاں امن کے فیصلے اکثر اسلحے کے کاغذات پر تحریر ہوتے ہیں، اور خاموشی کے پیچھے جنگ کی گونج سنائی دیتی ہے۔





Leave a Reply