سیّد اکبر زاہد
مہاراشٹر کی صبح ابھی پوری طرح روشن بھی نہ ہوئی تھی کہ بارامی کے کھلے میدانوں میں آگ اور دھوئیں نے ایک ایسی خبر کو جنم دیا جو محض ایک حادثہ نہیں، ایک سوال بن گئی۔ ایک چارٹرڈ طیارہ، جس میں ریاست کی بااثر سیاسی شخصیت اجیت پوار سفر کر رہے تھے، لینڈنگ کے لمحوں میں زمین سے ٹکرا کر خاموش ہو گیا۔ چند سیکنڈز میں زندگی، اختیار اور سفر—سب راکھ میں بدل گئے۔ اس حادثے نے نہ صرف پانچ جانیں لیں بلکہ ایک بار پھر یہ احساس جگایا کہ طاقت کے ایوانوں سے آسمان تک، انسان کتنی نازک ڈور پر چلتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ لینڈنگ کی کوشش میں تھا، ممکن ہے یہ دوسری اپروچ ہو، ممکن ہے موسم، دیکھائی یا لمحاتی تکنیکی الجھن نے فیصلے کو سخت بنا دیا ہو۔ کوئی واضح ہنگامی پیغام سامنے نہ آنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حادثہ اچانک اور تیز تھا، یا پھر حالات نے عملے کو سوچنے اور بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔ شعلوں میں لپٹا ملبہ، جلے ہوئے پر، اور خاموش رن وے—یہ سب سوالات چھوڑ گئے ہیں جن کے جواب کاغذوں، ریکارڈرز اور تحقیقات کی فائلوں میں بند ہیں۔
ہوابازی کے ماہرین جانتے ہیں کہ ایسے حادثات کبھی ایک وجہ سے نہیں ہوتے۔ انسانی فیصلہ، موسمی کیفیت، تکنیکی حالت اور ائیرپورٹ کا انفراسٹرکچر—یہ سب ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ اگر ایک کڑی کمزور ہو تو انجام وہی ہوتا ہے جو بارامی نے دیکھا۔ اسی لیے تفتیشی اداروں کی ذمہ داری محض سبب بتانا نہیں بلکہ اس زنجیر کی ہر کڑی کو پرکھنا ہے، تاکہ یہ سانحہ محض خبر بن کر نہ رہ جائے بلکہ اصلاح کا راستہ دکھائے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ مہاراشٹر نے طاقتور ناموں کو آسمان کے راستے میں کھویا ہو۔ برسوں پہلے، پُھٹا کے پہاڑی علاقے میں ایک ہیلی کاپٹر حادثہ ریاست کے قد آور رہنما گوپیناتھ منڈے کی جان لے گیا تھا۔ تب بھی موسم، جلدی اور فیصلے زیرِ بحث آئے تھے، اور تب بھی وعدہ ہوا تھا کہ سیکھا جائے گا۔ آج بارامی کا سانحہ اسی ادھوری گفتگو کو پھر زندہ کرتا ہے—کیا ہم نے واقعی سیکھا؟ یا ہر حادثے کے بعد چند دن کا شور، چند بیانات اور پھر خاموشی ہمارا مقدر بن چکی ہے؟
اس حادثے نے سیاست میں ایک خلا، خاندانوں میں ایک عمر بھر کا دکھ، اور سماج کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیا ہے۔ آسمان کسی کا نہیں، اور پرواز محض سہولت نہیں، ذمہ داری ہے۔ جب تفتیش اپنے انجام کو پہنچے گی تو ممکن ہے ایک تکنیکی اصطلاح یا ایک انسانی غلطی سامنے آئے، مگر اصل سوال یہی رہے گا کہ کیا ہم اس انجام کو آئندہ روک پائیں گے؟ بارامی کی جلی ہوئی مٹی یہی پوچھ رہی ہے، اور اس سوال کا جواب محض فائلوں میں نہیں، عمل میں لکھا جانا چاہیے۔





Leave a Reply