25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
غزہ — اکیسویں صدی کے ضمیر پر لکھا گیا خوں فشاں نوحہ

الف نیوز شمارہ نمبر: 106؛ تاریخ: 28 جنوری 2025؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد


اداریہ |

غزہ: لاشیں لوٹ آئیں، انسانیت اب بھی یرغمال ہے

سیّد اکبر زاہد

اکیسویں صدی، جسے انسان نے ترقی، حقوق اور عالمی ضمیر کی صدی قرار دیا تھا، غزہ کے ملبے تلے دفن ہو چکی ہے۔ یہ وہ صدی ہے جس میں ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹے، مگر انسان انسان سے پہلے سے زیادہ دور ہو گیا۔ اور یہ وہ لمحہ ہے جب آخری یرغمالی کی باقیات کی واپسی نے ایک باب تو بند کر دیا — مگر المیے کی پوری کتاب آج بھی کھلی ہے۔

ران گویلی کی لاش کی واپسی ایک خبر نہیں، ایک نوحہ ہے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ جنگ اب زندوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ مردوں کو بھی اپنی گواہی دینے پر مجبور کر رہی ہے۔ سینکڑوں لاشوں کے درمیان ایک لاش کی تلاش — یہ منظر محض ایک آپریشن نہیں، بلکہ انسانیت کی اجتماعی شکست کا استعارہ ہے۔

غزہ اس صدی کا وہ زخم ہے جس سے صرف خون نہیں بہہ رہا، سوال بھی ٹپک رہے ہیں:
کس نے اجازت دی کہ شہر قبرستان بن جائیں؟
کس نے طے کیا کہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی لاشیں ’’لازمی نقصان‘‘ کہلائیں؟
اور کس عالمی اخلاقیات نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ کچھ لاشیں خبروں کی سرخی بنیں اور کچھ اعداد و شمار میں دفن کر دی جائیں؟

یہ درست ہے کہ یرغمالیوں کی واپسی ایک انسانی ضرورت تھی، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس عمل میں تعاون ہوا۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ لاش کس نے واپس کی — اصل سوال یہ ہے کہ لاشیں پیدا کس نے کیں؟

امن معاہدوں کی زبان میں ’’فیز ون‘‘ مکمل ہو چکا ہے، مگر غزہ کے لیے کوئی فیز ایسا نہیں جس میں ماؤں کی چیخیں خاموش ہوں، یا بچوں کی آنکھوں سے خوف اتر جائے۔ غیر عسکریت کاری کے منصوبے کاغذ پر خوبصورت لگتے ہیں، مگر زمین پر آج بھی بارود بول رہا ہے، اور انسان خاموش ہے۔

یہ المیہ اس لیے سب سے بھیانک ہے کہ اس میں قاتل اور مقتول دونوں تھک چکے ہیں، مگر جنگ اب بھی زندہ ہے۔
یہ المیہ اس لیے سب سے خوں فشاں ہے کہ یہاں خون صرف زمین پر نہیں گرا، بلکہ عالمی ضمیر پر بھی چھینٹے پڑے ہیں۔
اور یہ المیہ اس لیے سب سے المناک ہے کہ دنیا نے اسے دیکھ کر بھی معمول بنا لیا ہے۔

الف نیوز یہ سوال اٹھاتا ہے:
اگر اس صدی میں بھی لاشوں کی واپسی کو ’’سفارتی کامیابی‘‘ کہا جائے،
اگر امن کی شرط یہ ہو کہ پہلے سب کچھ تباہ ہو،
اور اگر انصاف کی قیمت خاموشی ہو —
تو پھر آنے والی صدیاں ہمیں کس نام سے یاد کریں گی؟

غزہ صرف ایک جغرافیہ نہیں، یہ انسانی اخلاقیات کا امتحان ہے۔
اور سچ یہ ہے کہ اس امتحان میں انسانیت اب تک ناکام نظر آتی ہے۔


Editorial

Gaza: When the Bodies Returned, but Conscience Did Not

The twenty-first century — once proclaimed as the age of progress, human rights, and global conscience — now lies buried beneath the rubble of Gaza. Technology has shrunk distances, yet humanity has drifted farther apart than ever before. The return of the last hostage’s remains may have closed a chapter, but the book of tragedy remains painfully open.

The recovery of Ran Gvili’s body is not merely news; it is a lament.
It signals a moment when war is no longer confined to the living — even the dead are summoned to testify. Searching for one body among hundreds is not an operation alone; it is a haunting symbol of humanity’s collective failure.

Gaza has become the wound of this century — a wound that bleeds not only blood, but questions:
Who granted permission for cities to become graveyards?
Who decided that women, children, and the elderly could be reduced to “collateral damage”?
And what global moral order ruled that some bodies deserve headlines while others are buried as statistics?

Yes, the return of hostages was a humanitarian necessity.
Yes, cooperation occurred in that process.
But the real question is not who returned the bodies — the real question is who created them.

In the language of diplomacy, “Phase One” is complete.
But for Gaza, there is no phase in which mothers’ screams fall silent, or fear leaves the eyes of children. Plans for demilitarization may look elegant on paper, yet on the ground, gunpowder still speaks — and humanity listens in silence.

This tragedy is the most horrific because both killer and victim are exhausted, yet war remains alive.
It is the bloodiest because the blood has not only stained the soil, but splashed across the conscience of the world.
And it is the most tragic because the world has learned to watch it and call it normal.

Alif News asks:
If, in this century, the return of bodies is celebrated as diplomatic success,
if peace demands total destruction as its prerequisite,
and if justice is priced at silence;
then how will future centuries remember us?

Gaza is not merely a geography.
It is a moral examination of humanity.
And the truth is — humanity has yet to pass.


Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading