مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ: سناتن دھرم پر سوال، اظہار پر قدغن نہیں
(الف نیوز | مدورئی)
مدراس ہائی کورٹ کی مدورئی بنچ نے ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والے فیصلے میں بی جے پی رہنما Amit Malviya کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ Udhayanidhi Stalin کے سناتن دھرم سے متعلق بیانات، اپنے مفہوم اور اثرات کے اعتبار سے نفرت انگیز تقریر کے دائرے میں آتے ہیں۔
محترمہ جسٹس ایس. سرمتی نے اپنے فیصلے میں اس نکتے پر زور دیا کہ کسی بیان کے مفہوم کو جانچنے کے لیے محض لفظ نہیں بلکہ اس کا سیاق، لسانی پس منظر اور سماجی اثرات بھی پیش نظر رکھے جانے چاہئیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ تمل زبان میں استعمال ہونے والا لفظ “اوزھپّو” (ozhippu) محض مخالفت نہیں بلکہ مٹانے، ختم کرنے اور جڑ سے اکھاڑ دینے کے معنی رکھتا ہے۔ اگر اس لفظ کو کسی مذہب کے لیے برتا جائے تو اس کے اثرات مذہبی اور ثقافتی وجود تک پھیلتے ہیں—جو سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
عدالت کے مطابق، جب کسی بیان سے کسی مذہبی شناخت کے خاتمے کا تاثر ابھرے تو اس پر سوال اٹھانا جرم نہیں بلکہ شہری ردِعمل ہے۔ امیت مالویہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیا گیا سوال محض استفسار تھا، نہ کہ اشتعال انگیزی۔ نہ اس میں کسی تحریک کی دعوت تھی، نہ تشدد کا اشارہ—بلکہ ایک فکری سوال جو عوامی بیان کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش تھا۔
فیصلے میں یہ تاریخی پس منظر بھی درج کیا گیا کہ جن سیاسی دھاروں سے مذکورہ وزیر کا تعلق ہے، ان کی جانب سے سناتن دھرم پر طویل عرصے سے تنقیدی بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس لیے کسی ایک ردِعمل کو تنہا دیکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
عدالت نے افسوس کے ساتھ یہ بھی ریکارڈ کیا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ نفرت انگیز بیانات دینے والے بچ نکلتے ہیں جبکہ ان پر سوال اٹھانے والے قانونی پیچیدگیوں میں الجھ جاتے ہیں۔ موجودہ معاملے میں ایف آئی آر کا تسلسل قانونی عمل کے غلط استعمال کے مترادف تھا، لہٰذا اسے منسوخ کیا جانا ناگزیر تھا۔
Madras High Court Quashes FIR: Questioning a Speech Is Not a Crime
(Alif News)
In a judgment carrying deep constitutional and social resonance, the Madurai Bench of the Madras High Court quashed the FIR filed against BJP leader Amit Malviya, holding that the remarks made by Tamil Nadu Deputy Chief Minister Udhayanidhi Stalin on Sanatana Dharma amounted to hate speech.
Justice S. Srimathy observed that the issue hinged on the Tamil word “ozhippu”, used by the Minister, which signifies eradication rather than mere opposition. When such a term is applied to a faith followed by a vast section of society, it carries implications of cultural annihilation. In that context, questioning the intent and implications of such a statement cannot be construed as an offence.
The Court ruled that Malviya’s social media post neither incited violence nor called for agitation. It was framed as a question, seeking clarification on whether the Minister’s words implied the erasure of a religious identity. Such a response, the Court held, does not satisfy the ingredients of any penal offence.
Taking note of the broader political and historical context, the Bench remarked that repeated statements targeting Sanatana Dharma by ideological predecessors of the ruling party could not be ignored while assessing the present case.
Recording its concern, the Court noted that those who initiate hate speech often go unprosecuted, while those who react face legal action. Continuing proceedings against the petitioner, therefore, would amount to an abuse of the process of law. Consequently, the FIR was quashed.





Leave a Reply