🗞️ قانونی امور
Legal Affairs | عدلیہ، قانون اور عوام
تاریخ: 8 جنوری 2026
شمارہ: 88
آپریشن سندور پر سوشل میڈیا پوسٹ
سپریم کورٹ کا علی خان محمودآباد کو ذمہ دارانہ رویے کا مشورہ
سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہریانہ حکومت کو تین ماہ کی مہلت دی ہے کہ وہ اشوکا یونیورسٹی کے فیکلٹی رکن علی خان محمودآباد کے خلاف استغاثہ کی منظوری دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے۔
یہ معاملہ بھارت کی سرحد پار فوجی کارروائی آپریشن سندور سے متعلق سوشل میڈیا تبصروں سے جڑا ہے۔
عدالت نے اس امر کو نوٹ کیا کہ ریاستی حکومت نے تاحال مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دی اور علی خان محمودآباد کو تلقین کی کہ اگر ریاست کارروائی نہ کرے تو آئندہ اظہارِ رائے میں ذمہ داری اور احتیاط ملحوظ رکھی جائے۔
الف نیوز کا مؤقف:
اظہارِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر قومی سلامتی جیسے معاملات میں ذمہ داری اس کی اخلاقی حد ہے۔
⚖️ قانونی تنازع
کیرالہ یونیورسٹی کی زمین اور سیاسی استعمال
ہائی کورٹ نے درخواست کو مفادِ عامہ قرار دے دیا
کیرالہ ہائی کورٹ نے کیرالہ یونیورسٹی کی زمین پر مبینہ قبضے سے متعلق درخواست کو مفادِ عامہ کی عرضی (PIL) کے طور پر سماعت کے لیے منظور کر لیا۔
جسٹس سی جے جے چندرن نے واضح کیا کہ ایک ریٹائرڈ ملازم کو یونیورسٹی جائیداد کے معاملے میں کوئی ذاتی قانونی مفاد حاصل نہیں ہو سکتا۔ عدالت کے مطابق، اگر زمین کو تعلیمی مقاصد کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ ایک سنجیدہ عوامی معاملہ ہے۔
الف نیوز کا مؤقف:
تعلیمی اداروں کی زمین علم کی امانت ہوتی ہے، سیاست کا میدان نہیں۔
عوامی مفاد
دہلی کے تمام سرکاری اسکولوں کا سروے
حقِ تعلیم قانون پر عملدرآمد کا عدالتی حکم
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی حکومت، میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD) اور NDMC کو حکم دیا ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر تمام سرکاری اسکولوں کا تفصیلی سروے کریں۔
یہ سروے حقِ تعلیم قانون 2009 کے تحت بنیادی سہولتوں، اساتذہ کی تعداد، عمارتوں، پانی، بیت الخلاء، لائبریری اور کھیل کے میدانوں کی دستیابی کا احاطہ کرے گا۔
ادارتی اشارہ:
تعلیم محض نصاب نہیں، سہولت، وقار اور مساوی مواقع کا نام ہے۔
عدلیہ کی آواز
’’خاموشی جرم ہے‘‘
جسٹس ایم ایس سونک کا تاریخی الوداعی خطاب
بمبئی ہائی کورٹ میں الوداعی تقریب کے دوران جسٹس ایم ایس سونک نے کہا:
“جہاں بولنے کی ذمہ داری ہو، وہاں خاموشی جرم کے مترادف ہے۔”
انہوں نے بار کو عدلیہ کا اخلاقی و فکری نگہبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جج تنقید سے سنورتے ہیں، خوشامد سے نہیں۔
الف نیوز :
عدلیہ کی عظمت سوال سے گھٹتی نہیں، خاموشی سے گھٹتی ہے۔
تہذیبی و قانونی تحفظ
جامع مسجد کے اطراف تجاوزات
دہلی ہائی کورٹ کا سروے اور کارروائی کا حکم
دہلی ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر جامع مسجد اور اس کے اطراف تعمیرات کا سروے کرے اور اگر غیر قانونی تجاوزات ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عدالت نے یاد دلایا کہ جامع مسجد قومی اہمیت کی محفوظ یادگار ہے اور اس کا تحفظ آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
الف نیوز:
مذہبی ورثہ عبادت گاہ سے بڑھ کر تہذیبی امانت ہوتا ہے۔
✍️ اختتامیہ نوٹ (الف نیوز)
الف نیوز قانون کو محض دفعات نہیں سمجھتا، بلکہ انسان، انصاف اور اخلاق کے باہمی رشتے کے طور پر دیکھتا ہے۔





Leave a Reply