25°
Sunny, April 14, 2026 in Kathmandu
اداریہ

الف نیوز : شمارہ نمبر: 88

خاموشیوں کا شور اور سچ کی تنہائی

یہ عہدِ حیرت ہے—
جہاں چیخیں خبر بن جاتی ہیں،
اور سچ
کسی ویران گوشے میں دبکا
اپنے وجود پر شرمندہ دکھائی دیتا ہے۔

ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں
جہاں ظلم کے اعداد و شمار تو محفوظ ہیں،
مگر مظلوم کی آہ
کسی سرکاری فہرست کا حصہ نہیں بنتی۔
جہاں اسکرینیں روشن ہیں
مگر دلوں میں اندھیرا اتر آیا ہے،
اور جہاں معلومات کی فراوانی کے باوجود
انسان کی قدر نایاب ہو چکی ہے۔

یہ کیسی دنیا ہے
جہاں معصوم چہروں کی روشنی
اعداد کے اندھیروں میں گم کر دی جاتی ہے،
جہاں ماں کی ٹوٹی ہوئی دعا
الفاظ کی بے رحم لغت میں ترجمہ ہو کر
اپنی روح کھو بیٹھتی ہے،
اور جہاں سچ
آئینہ دکھانے کے جرم میں
خود ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

صحافت کبھی سوال ہوا کرتی تھی،
اقتدار کے ایوانوں میں
ایک بے چین دستک۔
آج اکثر وہی صحافت
جواب بن کر
طاقت کی میز پر رکھی نظر آتی ہے۔
قلم جو زخموں پر مرہم رکھتا تھا،
اب کئی بار
زخموں پر پردہ ڈالنے کا ہنر سیکھ چکا ہے۔

یہ خاموشی
محض خاموشی نہیں،
یہ ایک اجتماعی رضامندی ہے
جو ظلم کو دوام بخشتی ہے۔
یہ وہ اندھا پن ہے
جو سچ کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے،
اور وہ بہرا پن ہے
جو مظلوم کی پکار
سننے سے گریزاں ہے۔

الف نیوز یہ سوال اٹھاتا ہے:
کیا صحافت کا فرض
محض خبر سنانا ہے،
یا خبر کے پیچھے
سسکتے انسان کی آواز بننا بھی؟

کیا غیر جانبداری کا مطلب یہ ہے
کہ جلتے گھروں کے درمیان کھڑے ہو کر
ہم صرف راکھ گنتے رہیں
اور آگ لگانے والے کا نام
لینے سے بچتے رہیں؟

یاد رکھیے،
تاریخ نے کبھی
خاموش تماشائیوں کو معاف نہیں کیا۔
نہ ان قلم کاروں کو
جنہوں نے سچ جان کر بھی نہیں لکھا،
اور نہ ان معاشروں کو
جنہوں نے ظلم دیکھ کر بھی
اپنی آنکھیں بند رکھیں۔

آج اگر ہم نے سچ کا ساتھ نہ دیا
تو کل
سچ ہمیں پہچاننے سے انکار کر دے گا۔

الف نیوز اس یقین کے ساتھ کھڑا ہے
کہ صحافت اگر انسان کے لیے نہ ہو
تو وہ محض کاروبار ہے،
اور قلم اگر ضمیر سے خالی ہو
تو وہ صرف سیاہی رہ جاتا ہے۔

یہ اداریہ
کسی ایک واقعے کا نوحہ نہیں،
یہ اس عہد کے نام ایک گواہی ہے—
جہاں ہمیں فیصلہ کرنا ہے
کہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہوں گے
یا تاریخ کے کٹہرے میں
خاموش مجرم بن کر۔


Editorial

The Roar of Silence and the Loneliness of Truth

This is an age of paradox—
where screams become headlines,
and truth
hides in a forgotten corner,
almost ashamed of its own existence.

We live in a time
where the statistics of oppression are carefully preserved,
but the cry of the oppressed
never finds a place in official records.
Screens glow brightly,
yet darkness settles deep within hearts,
and amid an excess of information,
human worth has become a rarity.

What kind of world is this
where the light of innocent faces
is lost in the shadows of numbers,
where a mother’s broken prayer,
translated into the ruthless language of words,
loses its very soul,
and where truth,
for holding up a mirror,
is itself declared the criminal?

Journalism was once a question—
a restless knock
on the doors of power.
Today, too often,
it has turned into an answer,
comfortably placed
on the tables of authority.
The pen that once healed wounds
has, at times,
learned the craft of concealing them.

This silence
is not merely silence;
it is collective consent—
a consent that grants oppression its longevity.
It is a blindness
that refuses to see the truth,
and a deafness
that turns away
from the cry of the oppressed.

Alif News raises a fundamental question:
Is journalism merely meant to deliver news,
or to become the voice
of the human being gasping behind it?

Does neutrality mean
standing between burning homes,
counting only the ashes,
while carefully avoiding
the name of the arsonist?

Remember this:
history has never forgiven silent spectators—
neither the writers
who knew the truth yet chose not to write it,
nor the societies
that witnessed oppression
and still closed their eyes.

If we do not stand with truth today,
tomorrow
truth will refuse to recognize us.

Alif News stands firm in the belief
that journalism, if not for humanity,
is nothing more than a business,
and a pen devoid of conscience
is merely ink.

This editorial
is not a lament for a single event;
it is a testimony addressed to our time—
where we must choose
whether to stand with truth
or appear before the court of history
as silent accomplices.

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading
  • قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت
    يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآٮِٕلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ‏  ( سورۃ الحجرات: ١٣) ترجمہ: اے لوگو ! ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ایک مرد اور ایک عورت سے اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ… Read more: قرآنی پیغام برائے پوری انسانیت

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
جنوری 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading