ممبئی کی سیاست ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ برسوں کی سیاسی دوری کے بعد اودھے ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے ممبئی کارپوریشن (بی۔ایم۔سی) کےآےندہ انتخابات کے لئے ہاتھ ملا لئے ہیں۔ دونوں ٹھاکرے کزنز نے ایک مشترکہ عوامی پیغام میں اعلان کیا ہے کہ’’ ممبئی کو مراٹھی میئر ملے گا اور وہ شیو سینا۔۔ایم۔ین۔یس اتحاد سے ہی ہوگا۔‘‘
یہ اعلان صرف انتخابی حکمتِ عملی نہیں بلکہ مراٹھی شناخت، علاقائی خودمختاری اور ممبئی کی سیاسی روح کی بازیافت کا نعرہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
“بٹیں گے تو کٹیں گے” کا نعرہ دراصل ان قوتوں کے خلاف وارننگ ہے جو ممبئی کی سیاست کو تقسیم اور کمزور کرنا چاہتی ہیں۔
برہمن ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں یہ اتحاد بی جے پی اور دیگرف جماعتوں کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاراشٹریہ نونرمان سینا اور شیو سینا کا یہ ملاپ مراٹھی ووٹر کو ایک بار پھر متحد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شیو سینا (یو۔بی۔ی) کے سربراہ اودھے ٹھاکرے نے کہا کہ ہم نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی اددھیناتھ کے نعرے ’’بٹیں گے تو کٹیں گے‘‘ کو ایک نیا اور تیکھا سیاسی مفہوم دے دیا ہے۔
بی جے پی کہتی ہے ’’بٹیں گے تو کٹیں گے‘‘، میں کہتا ہوں ’’چوکل تار سمپل‘‘— اگر اب چوک گئے تو سب ختم ہو جائے گا۔ ہم اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو سیاسی طور پر ختم نہ کر دیں۔
یہ بیان صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی اعلان سمجھا جا رہا ہے، جس میں ممبئی کی شناخت، خودمختاری اور مراٹھی وقار کو مرکزِ گفتگو بنایا گیا ہے۔ اسی موقع پر ان کے کزن راج ٹھاکرے نے مراٹھی شناخت کی سیاست کو ایک ’’نئی صبح‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ مراٹھی عوام کو وہی ملے جو وہ چاہتے ہیں۔ ۔عزت، حق اور نمائندگی۔‘‘
بال ٹھاکرے کی قیادت میں مراٹھی شناخت کی یہ سیاست ماضی میں مہاراشٹر کی سیاست کی پہچان بنی رہی ہے اور وقتاََ فوقتاََ ریاستی سیاست کا رخ متعین کرتی رہی ہے۔بیس برس بعد دوبارہ متحد ہونے والے ٹھاکرے کزنز نے شندے سینا–بی جے پی اتحاد سے ناخوش رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے بھی دروازے کھلے رکھنے کا اعلان کیا۔
ادھو ٹھاکرے نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ’’جو لوگ بی جے پی میں ہو رہی چیزوں کو برداشت نہیں کر پا رہے، وہ ہمارے ساتھ آ سکتے ہیں۔‘‘ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان نہ صرف اتحاد کی توسیع کی دعوت ہے بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی پر ایک براہِ راست سیاسی وار بھی ہے۔





Leave a Reply