نیگاتا (جاپان): تقریباً پندرہ برس بعد جاپان نے دنیا کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کی بحالی کی حتمی منظوری دیتے ہوئے جوہری توانائی کی بحالی کی طرف اہم قدم اٹھایا ہے۔
پیر کو نیگاتا کی علاقائی اسمبلی نے کاشیوازاکی۔کاریوا نیوکلیائی پلانٹ کی دوبارہ شروعات کے حق میں ووٹ دیا، جو جاپان کی توانائی پالیسی میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پلانٹ ٹوکیو سے تقریباً 220 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع ہے اور ان 54 ری ایکٹرز میں شامل تھا جنہیں 2011 کے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد بند کردیا گیا تھا، جب فوکوشیما دائیچی پاور پلانٹ شدید نقصان کا شکار ہوا تھا۔
اگرچہ حکومتی منظوری کو اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، تاہم عوامی تحفظات بدستور موجود ہیں۔ پیر کے روز تقریباً 300 افراد نے پلانٹ کی بحالی کے خلاف نیگاتا میں احتجاج کیا اور جوہری تنصیبات کی حفاظت پر سوال اٹھائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جاپان کی توانائی کی ضروریات، موسمیاتی اہداف اور اقتصادی دباؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم فوکوشیما کے تلخ تجربے کے باعث بہت سے شہری محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔





Leave a Reply