آج کا ہندوستان صرف ترقی اور معیشت کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے سماجی تناؤ کی تصویر بھی ہے جہاں لفظ، نعرہ اور تقریر ہتھیار بن چکے ہیں۔ نفرت انگیز زبان نے معاشرے کے ریشوں میں زہر گھول دیا ہے، جس کا نتیجہ کبھی سڑکوں پر تشدد کی صورت میں نکلتا ہے اور کبھی ذہنوں کی تقسیم میں۔
ایسے ماحول میں کرناٹک حکومت کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف قانون سازی ایک جرات مندانہ قدم ہے۔ یہ بل اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں نفرت پھیلانا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
یہ قانون صرف سزا کا اعلان نہیں بلکہ ایک اخلاقی پیغام بھی ہے کہ ریاست خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ البتہ اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس کا نفاذ غیر جانبدار، شفاف اور سیاسی انتقام سے پاک ہو۔ اگر یہ قانون صرف کمزوروں پر لاگو ہوا اور طاقتور نفرت پھیلانے والے بچ نکلے تو اس کی روح مجروح ہو جائے گی۔
ملک کی موجودہ صورتِ حال میں، جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے، اس بل کو ایک اصلاحی آغاز سمجھا جانا چاہیے — ایسا آغاز جو نفرت کے شور میں انسانیت کی آواز بلند کرے۔
یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اس طرح کی قانون سازی صرف ریاستی سطح تک محدود نہ رہے بلکہ پارلیمنٹ میں بھی ایک جامع اور ہمہ گیر قانون منظور کیا جائے۔
نفرت کی زبان نہ ریاستوں کی سرحدیں مانتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دور میں کسی ایک خطے تک محدود رہتی ہے۔
اگر پورے ملک میں ایک واضح، منصفانہ اور غیر جانبدار قانونی فریم ورک موجود ہوگا تو اشتعال انگیزی، فرقہ وارانہ زہر اور سماجی انتشار کو مؤثر طور پر روکا جا سکے گا۔ ایک قومی قانون نہ صرف ریاستوں کو رہنمائی فراہم کرے گا بلکہ یہ پیغام بھی دے گا کہ ہندوستان نفرت نہیں، ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔





Leave a Reply