/ Oct 16, 2026
Trending
الف نیوز شمارہ نمبر: 352/ تاریخ: 4 جمادی الاول 1448ھ/16 اکتوبر 2026ء/جمعہ
متحدہ اردو تنظیم ٹرسٹ تمل ناڈو اور تنظیمِ فروغِ اردو ٹمل ناڈو (انڈیا) کے باہمی اشتراک سے سمینار کا انعقاد

الف نیوز، 15 ، اکتوبر 2026ء
ارو زبان و ادب کی ترویج، ادبی شخصیات کے اعترافِ خدمات اور علمی مکالمے کے فروغ کے لئے آن لائن ذرائع کا بامقصد استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی جذبے کے تحت متحدہ اردو تنطیم ٹرسٹ، تمل ناڈو اور تنظیمِ فروغِ اردو تمل ناڈو (انڈیا) کے باہمی اشتراک سے معروف ادیب، شاعر اور محقق علیم صبا نویدی مرحوم کی حیات و خدمات کے موضوع پر ایک روزہ قومی آن لائن اردو سمینار بعنوان ‘‘علیم صبا نویدی: فن اور شخصیت’’ منعقد ہوا۔ ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم، اساتذہ، ادیبوں، شاعروں اور مقالہ نگاروں نے اس علمی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے اردو ادب کی اس اہم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سمینار کا آغاز ٹھیک دس بجے مفتی سعید احمد صاحب امام و خطیب مسجدِ بڑی میٹ چنئی کی تلاوتِ آیاتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بارگاہِ رسالت مآب میں نعت کا نذرانہ جناب شاہد مدراسی صاحب خازن متحدہ اردو تنظیم تمل ناڈو ٹرسٹ نے علیم صبا نویدی مرحوم ہی کی ایک نعت سے پیش کیا۔ نظامت کے فرائض خود ڈاکٹر تمیم احمد قاسمی صاحب، چیرمین تنظیمِ فروغِ اردو تمل ناڈو (اندیا) نے انجام دئے جو اس پورے سمینار کے روحِ رواں بھی ہیں۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر طیب خرادی، صد ر شعبۂ اردو ، نیوکالج (خود مختار)، چنئی نے ادا کئے۔ کلیدی خطبہ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سیّد سجاد حسین صاحب، سابق صدر شعبۂ عربی فارسی و اردو ، مدراس یونیوسٹی نے ارشاد فرمایا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے کلیدی خطبہ میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں جدید ٹکنالوجی کی اہمیت اور افادیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس ٹکنالوجی نے دوردارز بسنے والے قلم کاروں کو ایک دوسرے سے جوڑا ہے.

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر تمیم احمد کو اس سمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس سمینار کی خاص اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے کہ یہ ڈاکٹر تمیم احمد قاسمی کی جانب سے منعقد کئے جانے والے قومی و بین العلاقائی آن لائن اردو سمیناروں کے سلسلے کی پندرھویں کڑی ہے. اس سے قبل وہ چودہ سمینار منعقد کرچکے ہیں۔ یوں ان کا یہ مسلسل سفر اردو زبان و ادب کی خدمت، علمی سرگرمیوں کے فروغ اور مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے اہلِ قلم کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی قابلِ قدر کوشش کی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے بعد جناب محمد حنیف کاتب, جنرل سکریٹری متحدہ اردو تنطیم ٹرسٹ، تمل ناڈو نے اپنے خطاب میں بتایا کہ موجودہ عہد میں جب ادبی تقریبات کے انعقاد کے لئے مالی وسائل، سفری دشواریوں اور جغرافیائی فاصلے جیسی رکاوٹیں اکثر حائل رہتی ہیں، آن لائن سمییناروں نے ان حدود کو بڑی حد تک کم کیا ہے۔ ڈاکٹر تمیم احمد قاسمی کی یہ کاوش اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ اگر جذبۂ خدمت صادق ہو تو جدید ذرائع کو علم و ادب کے فروغ اور اہلِ قلم کے درمیان روابط مضبوط کرنے کے لئے مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
خصوصاََ علیم صبا نویدی مرحوم جیسی ادبی شخصیت کی حیات و خدمات پر سمینار کا انعقاد اس امر کی علامت ہے کہ ڈاکٹر تیمیم احمد کی توجہ محض تقریبات کے انعقاد تک محدود نہیں بلکہ ادبی سرمایہ محفوظ کرنے، شخصیات کے علمی و تخلیقی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے اور اردو کی تہذیبی روایت سے وابستگی کو مضبوط بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
محمد حنیف کاتب صاحب کے بعد دیگر مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن صاحب، وائس چیرمین،تمل ناڈو اردو اکاڈمی، ڈاکٹر حیات افتخار صاحب، سابق صدر شعبۂ اردو، قائدِ ملت کالج، میڈاواکم، چنئی اور ڈاکٹر سیّد رفیق پاشا حسینی صاحب، قلمکار و محقق، چنئی نے علیم صبا نویدی صاحب کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر مہمانِ اعزازی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے اکبر زاہد صاحب مدیر روزنامہ الف نیوز، نے علیم صبا نویدی مرحوم کے آخری ایام کی ایک درد انگیز یاد کو سامعین کے سامنےپیش کرتےہوئے بتایا کہ علیم صبا نویدی اپنےہم عصر ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، لغت نویس، محقق اور مترجم دوست جناب مختار بدری کی زندگی ہی میں ان کا جشنِ اعترافِ خدمات منانے کے لئے پوری تیاری کرچکے تھے۔دعوت نامے چھپ چکے تھے، ہال بک ہوچکا تھا اور تاریخ و وقت بھی مقرر تھے۔ اپنی وفات سے محض ایک روز قبل وہ دعوت ناموں کی تقسیم کے سلسلہ میں آمبور آئے تھے اور راتوں رات ایک آٹو رکشا کے ذریعے مدراس واپس لوٹے ۔ دورانِ سفر وہ سردی سے ٹھٹرتے رہے جس کا ذکر خود انہوں نے دوسرے دن مدراس پہنچنے کے بعد کیا تھا۔ اس سفر سے لوٹنے کے دوسرے دن صبح ان کا انتقال ہوگیا۔ اس سانحے کے دو ماہ بعد مختار بدری بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور وہ جشن کبھی منعقد نہ ہوسکا۔ اکبر زاہد نے اس ادھوری خواہش کو محض ایک یاد نہیں بلکہ اردو کے ایک مخلص خادم کی آخری ادبی آرزو قرار دیتے ہوئے مننتظمین سے پُر زور درخواست کی کہ مختار بدری کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں بھی ایک قومی سمینار منعقد کیا جائے تاکہ علیم صبا نویدی مرحوم کی اس نیک خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کے ادھورے خواب کو تعبیر دی جاسکے۔
اکبر زاہد کے بعد مشہور شاعر و ادیب جناب سراج زیبائی اور جناب ڈاکٹر جی امتیاز باشا رہبرؔ صدر تمل ناڈو اردو تحقیقی مرکز وانمباڑی نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آخر میں صدرِ سمینار اور متحدہ اردو تنظیم ٹرسٹ چنئی تمل ناڈو کے صدرِ محترم جناب محمد روح اللہ صاحب نے علیم صبا نویدی کی ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے علیم صبا نویدی سے قریبی تعلقات رہے۔ اکثر علیم ، کاوش بدری، راز امیتاز، اور دانش فرازی ایک آڈیٹر کے دفتر میں شام گئے ملاقات ہوا کرتی تھی اور شعر و سخن کی باتیں ہوا کرتی تھی اور رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا تھا۔ انہوں نے علیم صبا نویدی کی بےلوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنا صدارتی خطبہ علیم صبا نویدی کی ایک غزل سے ختم کیا۔
ابتدائی نشست کے اختتام کے بعد باقاعدہ طور پر جناب محمد حنیف کاتب صاحب کی صدارت میں پہلے تکنیکی سیشن کا آغاز ہوا جس میں سراجِ زیبائی صاحب، شیموگہ؛ پروفیسر سید وصی اللہ صاحب بختیاری، کڈپہ؛ ڈاکٹر ظہیر دانش عمری،کڈپہ؛ محترمہ تحسینہ ماوینکٹی، کرناٹک، محترمہ ساجرہ ٹی کے کیرلا، ڈاکٹر نشاط نائیرا، مہاراشٹرا، داکٹر یس مدثر احمد ترچی، ڈاکٹر یس مدثر احمد، تری، ڈاکٹر اسماء کوثر، شیموگہ، ڈاکٹر شازیہ بیگم،کڈپہ، داکٹر نجمہ سلطانہ حیدرآباد، ڈاکٹر یس ٹی نوراللہ، آندھرا پردیش، ڈاکٹر ڈی یس جمشید بیگم آندھرا پردیش کے نام شامل ہیں۔
دوسرے تیکنیکی سیشن کی صدارت ڈاکٹر حیات افتخار صاحب ، سابق صدر اردو ، قائد ِ ملت کالج ، میڈاواکم، چنئی نے کی۔مقالات پیش کرنے والے تھے ڈاکٹر حافظ انور حسین، آندھرا پردیش، ڈاکٹر عائشہ عبدالعزیز پٹھان، سولا پور؛ مظفر امام، حیدرآباد؛ ڈاکٹر محمد ناصر محمد عثمان باغبان، سولا پور؛ محمد ابو سعود، بہار، ڈاکٹر ناطم حسین خان، لکھنو؛ اے۔ کوثلیا دیوی، کرنول؛ ڈاکٹر سید فاطمہ النساء اسماء ، حیدرآباد؛ ڈاکٹر عبدالحفیظ ندوی، بھٹکل؛ شیخ عامر شیخ امان اللہ، مہاراشٹرا؛ ڈاکٹر محمد رفیق محمد حنیف، مہاراشٹرا اور عطاء اللہ، دہلی؛
تیسرے تیکنیکی سیشن کی صدارت ڈاکٹر سیّد وصی اللہ بختیار ی صاحب عمری صدر شعبۂ اردو ، گورنمنٹ ڈگری کالج، کڈپہ نے کی۔ مقالات پیش کرنے والے تھے تزئین تبسم ، محبوب نگر، میمونہ تحسین، اورنگ آباد، ڈاکٹر غوثیہ بانو، حیدرآباد، کوثر جہاں، پونے، ڈاکٹر محبہ ونٹموری بنگلور؛ ڈاکٹر انیس الرحمن ، نانڈیڑ؛ محمد وسیم، علی گڑھ؛ سروابی صبیحہ خانم، رائے چوٹی؛ احساس نایاب، شیموگہ؛ ظہور احمد ،دہلی؛ ڈاکٹر ثمینہ بیگم، حیدرآباد؛ اور شائستہ مہتاب، بہار۔
چوتھے تکنیکی سیشن کی صدارت ڈاکٹر طیب خرادی صاحب ، صدر شعبۂ اردو ، نیوکالج (خود مختار) چنئی نے کی۔ مقالہ نگار تھے ‘‘خالدسیف اللہ، بہار؛ رضوانہ فاطمہ ، ونپرتی، ایم ریحانہ پروین، کڈپہ، نبیلہ جبین، گلبرگہ؛ سعدیہ فاطمہ باسط علی خان، ناندیڑ؛ آصفیہ بیگم، حیدرآباد؛ داکٹر اے شبیر باشاہ، گنٹور؛ سید فریاد بی، حیدرآباد؛ ڈاکٹر عاشق حسین میر، کشمیر؛؛ ڈاکٹر نشاط نائیرا ، مہاراشٹرا؛ ماجدہ، دہلی؛ یس ہاجرہ خانم ، آندھرا پردیش۔
اختتامی اجلاس جناب محمد حنیف کاتب کی صدارت میں ہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر تمیم احمد نے انجام دئے۔ قاری محمد عادل وانمباڑی نائب ناظم، انجمنِ قاسمیہ، پیری میٹ، چنئی نے آیاتِ کلام پاک کی قرۃ کی۔ نعت محمد اویس یاسین خان، متعلم شعبۂ اردو نیو کالج، چنئی نے پیش کی۔ مہمانانِ خصوصی و مہمان اعزازی تھے: ڈاکٹر سید رفیق باشا رفیق حسینی ،چنئی؛ جناب اسانغنی مشتاق احمد رفیقی، وانمباڑی؛ ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری صاحب، ڈاکٹر کلیم اللہ ، صدر شعبۂ اردو مظہر العلوم کالج، آمبور؛ ڈاکٹر محمد یاسر صاحب، صدر شعبۂ اردو، سی عبدالحکیم کالج، میل وشارم، ڈاکٹر غیاث احمد، ْصدر شعبہ، نیوکالج، چنئی۔
ڈاکٹر تمیم احمد وی ۔ چیرمین تنظیمِ فروغِ اردو تمل ناڈو (انڈیا) کے ہدیۂ تشکر سے یہ آن لائن سمینار کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
جناب سراج زیبائی صاحب، ادیب و شاعر، ڈاکٹر جی امتیاز باشاہ نے مختصراََ علیم صبا نویدی صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.