میلاد النبی ﷺ: محبت، عبادت اور رسم کے درمیان – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

میلاد النبی ﷺ: محبت، عبادت اور رسم کے درمیان

الف نیوز شمارہ نمبر:310|تاریخ: 11 ربیع الاول 1448ھ|25 اگست 2026ء|منگل

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

ربیع الاول کا چاند طلوع ہوتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص کیفیت بیدار ہوجاتی ہے۔ گلیاں سجتی ہیں، محفلیں آراستہ ہوتی ہیں، درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کے تذکرے ہوتے ہیں اور عاشقانِ رسول اپنے اپنے انداز میں اس نسبتِ مبارک کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں میلاد النبی ﷺ منانا اب ایک عام مذہبی و سماجی روایت کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ مگر ایک سوال ایسا ہے جس سے صرف جذبات کی بنیاد پر نہیں، علم، دیانت اور دینی بصیرت کی روشنی میں گفتگو ہونی چاہیے:

کیا میلاد النبی ﷺ منانا شرعاً ثابت عبادت ہے، ایک جائز اظہارِ محبت ہے، یا وقت کے ساتھ پیدا ہونے والی ایک مذہبی رسم؟

یہ سوال محض فقہی نہیں؛ اس کے پیچھے ہماری محبتِ رسول ﷺ، ہماری دینی ترجیحات اور ہمارے طرزِ عمل کا پورا تصور پوشیدہ ہے۔

اسلام نے رسول اللہ ﷺ کی محبت کو ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا۔ قرآن نے آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین کہا، اور آپ کی زندگی کو اہلِ ایمان کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔ اس لیے ایک مسلمان کے لیے نبی کریم ﷺ کی ولادت، حیات، اخلاق، کردار اور تعلیمات کا تذکرہ یقیناً باعثِ سعادت ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس تذکرے کی شرعی صورت کیا ہو؟

یہاں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض علماء میلاد کی موجودہ اجتماعی صورت کو بدعت قرار دیتے ہیں، کیونکہ عہدِ نبوی ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور قرونِ اولیٰ میں اس طرح کا سالانہ جشن یا مخصوص مذہبی اجتماع معروف نہیں تھا۔ ان کے نزدیک اگر کسی عمل کو مستقل دینی شعار اور ثواب کی مخصوص عبادت سمجھ کر اختیار کیا جائے تو اس کے لیے واضح شرعی دلیل ضروری ہے۔

دوسری جانب متعدد علماء نے میلاد کے اجتماع کو، اگر اس میں قرآن خوانی، درود و سلام، سیرتِ نبوی ﷺ کا بیان، صدقہ و خیرات اور اللہ تعالیٰ کا شکر شامل ہو اور اسے کسی واجب یا منصوص عبادت کی حیثیت نہ دی جائے، جائز قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اصل مقصد نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پر خوشی، شکر اور آپ ﷺ کی سیرت سے وابستگی پیدا کرنا ہے۔

لہٰذا اس مسئلے کو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تکفیر و تفسیق کا میدان بنادینا خود ایک افسوس ناک رویہ ہے۔ جو شخص میلاد مناتا ہے، اسے لازماً دین سے بے خبر قرار دینا درست نہیں؛ اور جو شخص اسے نہیں مناتا، اسے محبتِ رسول ﷺ سے محروم سمجھ لینا بھی انصاف نہیں۔

اصل سوال شاید یہ نہیں کہ ہم میلاد مناتے ہیں یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم میلاد کے ذریعے کیا حاصل کرتے ہیں؟

اگر ایک محفل میں چراغاں بہت ہو مگر سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا چراغ دل میں روشن نہ ہو، اگر گلیاں جھنڈوں سے بھر جائیں مگر معاملات میں صداقت نہ آئے، اگر زبان پر نعت کے پھول ہوں مگر کردار میں رحم، امانت، عفو اور انصاف نہ ہو، تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہماری خوشی کی حقیقت کیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صرف محبت کا دعویٰ نہیں سکھایا، محبت کا طریقہ بھی سکھایا۔ آپ ﷺ نے یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا، غلام کے ساتھ انسانیت کا سلوک کیا، پڑوسی کے حقوق بیان کیے، دشمن کے لیے بھی عدل کا دامن نہیں چھوڑا، عورتوں کے احترام کی تعلیم دی، تجارت میں دیانت کو لازم قرار دیا اور کمزور کے حق کو طاقتور کی خواہش پر قربان ہونے سے بچایا۔

تو پھر اگر میلاد واقعی محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہے تو اس محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت یہ ہوگا کہ ربیع الاول گزرنے کے بعد بھی ہمارے اخلاق میں محمد ﷺ کی خوشبو باقی رہے۔

محفل ایک رات کی ہوسکتی ہے؛ سیرت پوری زندگی کی روشنی ہے۔

چراغ چند گھنٹوں کے لیے جل سکتا ہے، مگر نبوی کردار وہ چراغ ہے جو انسان کی پوری زندگی روشن کرسکتا ہے۔

یہ بھی غور طلب ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں؛ یہ اس عظیم انقلاب کی ابتدا ہے جس نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر رب العالمین کی بندگی کی طرف بلایا۔ اس ولادت کی خوشی اسی وقت معنی خیز ہوگی جب ہم اس پیغام کو بھی یاد رکھیں جس کے لیے آپ ﷺ تشریف لائے۔

اسی لیے میلاد کی محفل میں سب سے بلند آواز شاید نعت کی نہیں، عمل کی ہونی چاہیے۔

ہم اگر میلاد مناتے ہیں تو اسے سیرت کا دروازہ بنائیں، صرف رسم کا نہیں۔ بچوں کو بتائیں کہ محمد ﷺ کیسے تھے۔ تاجروں کو بتائیں کہ آپ ﷺ کی تجارت کیسی تھی۔ حکمرانوں کو بتائیں کہ آپ ﷺ کا عدل کیا تھا۔ اہلِ ثروت کو بتائیں کہ آپ ﷺ نے محتاجوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ نوجوانوں کو بتائیں کہ آپ ﷺ کی جوانی کی پاکیزگی کیا تھی۔ اور ہر مسلمان کو یہ یاد دلائیں کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا سب سے معتبر امتحان اتباعِ رسول ﷺ ہے۔

قرآن کا پیغام بھی یہی ہے کہ محبت کا دعویٰ اتباع کے بغیر ادھورا ہے۔

اس لیے میلاد کے مسئلے میں ہمیں دو انتہاؤں سے بچنا ہوگا: ایک طرف ایسی شدت جو ہر اجتماعی اظہارِ محبت کو فوراً گمراہی قرار دے دے، اور دوسری طرف ایسی بے احتیاطی جو ہر رواج کو دین کا درجہ دے دے۔

دین جذبات کا دشمن نہیں، مگر جذبات کو شریعت کی حدود میں رکھتا ہے۔ محبت ایمان کی روح ہے، مگر محبت کا سب سے حسین ثبوت محبوب کے طریقے پر چلنا ہے۔

ہم میلاد منائیں یا نہ منائیں، اس فقہی اختلاف کو اپنی باہمی محبت کا دشمن نہ بنائیں۔ لیکن اگر میلاد منائیں تو اسے محض روشنیوں، جلوسوں اور نعروں تک محدود نہ کریں۔ اسے اپنے گھروں میں سیرت کے مطالعے، اپنے کاروبار میں دیانت، اپنے معاشرے میں رحم، اپنے معاملات میں انصاف اور اپنی زندگی میں سنتِ رسول ﷺ کی پیروی کا آغاز بنائیں۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی سب سے بڑی خوشی یہ نہیں کہ ایک دن شہر روشن ہوجائے؛ سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ ایک انسان کا دل ہمیشہ کے لیے روشن ہوجائے۔

اور شاید میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا سب سے سچا جشن یہی ہے کہ ہماری زبان درود پڑھتی رہے، ہمارا دل محبت سے بھرا رہے اور ہمارا کردار گواہی دیتا رہے کہ ہم واقعی محمدِ عربی ﷺ کے امتی ہیں۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading