جب ترقی انصاف سے آگے نکل کر مذہبی ڈھانچوں کو گرانے لگے – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

جب ترقی انصاف سے آگے نکل کر مذہبی ڈھانچوں کو گرانے لگے

الف نیوز شمارہ نمبر: 259| تاریخ: 17 محرم الحرام 1448ھ| 3 جولائی 2026| جمعہ

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

جمہوریت صرف سڑکوں، پلوں اور بلند و بالا عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ اس اعتماد کا نام ہے جو ریاست اپنے ہر شہری کے دل میں پیدا کرتی ہے۔ اگر ترقی کے نام پر کسی ایک طبقے کے دل میں یہ احساس جنم لینے لگے کہ اس کی عبادت گاہیں، اس کی شناخت اور اس کے مذہبی آثار مسلسل خطرے میں ہیں، تو یہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاست کی غیر جانب داری اور آئینی کردار پر ایک گہرا سوال بن جاتا ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عبادت گاہوں (خصوصی دفعات) ایکٹ، 1991، حکومت کو عوامی مقصد کے لیے زمین حاصل کرنے سے نہیں روکتا۔ عدالت نے قانون کی تشریح کی ہے، اور قانون کا احترام ہر شہری پر لازم ہے۔ لیکن قانون کی تشریح کے ساتھ ایک اور سوال بھی جنم لیتا ہے، اور وہ سوال عدالت سے زیادہ ریاست کے ضمیر سے مخاطب ہے: کیا ہر وہ منصوبہ جسے "عوامی مفاد” کہا جائے، واقعی پورے عوام کا مفاد ہوتا ہے، یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ترقی کا بوجھ ایک ہی طبقے کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے؟

ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ عرصے کے دوران مذہبی ڈھانچوں کے انہدام نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حکومت ان کارروائیوں کو قانون کے نفاذ یا ترقیاتی منصوبوں کا حصہ قرار دیتی ہے، جبکہ متاثرہ طبقات اور متعدد سماجی حلقے ان پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں یہ سوالات غیر ضروری نہیں بلکہ فطری ہیں، کیونکہ آئین صرف اختیارات نہیں دیتا بلکہ ان اختیارات کے منصفانہ استعمال کا تقاضا بھی کرتا ہے۔

جمہوریت کی اصل طاقت اکثریت کے اختیار میں نہیں بلکہ اقلیت کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب کسی شہری کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی آواز کمزور پڑ رہی ہے یا اس کے مذہبی و ثقافتی ورثے کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا، تو ریاست پر لازم ہے کہ وہ محض قانونی دلائل پیش نہ کرے بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ آئین کی نظر میں سب برابر ہیں۔

ترقی کی مخالفت نہیں کی جا سکتی، لیکن ترقی کا راستہ انصاف، شفافیت اور مساوات سے ہو کر گزرنا چاہیے۔ ایسی ترقی جو کسی کے دل میں محرومی، خوف یا بے یقینی پیدا کرے، وہ اپنے مقصد کو خود کمزور کر دیتی ہے۔ ریاست کا وقار صرف منصوبے مکمل کرنے میں نہیں بلکہ ہر شہری کے اعتماد کو محفوظ رکھنے میں بھی ہے۔

ہندوستان کی تہذیبی شناخت اس کی مذہبی و ثقافتی گوناگونی میں مضمر ہے۔ اس ورثے کی حفاظت صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ترقی اور آئینی اقدار کے درمیان توازن برقرار نہ رہا تو سڑکیں تو کشادہ ہو جائیں گی، مگر دلوں کے فاصلے بڑھ جائیں گے، اور قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ دلوں میں بننے والی دیواریں پتھر کی دیواروں سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔

الف نیوز کا ایمان ہے کہ مضبوط قومیں طاقت سے نہیں بلکہ انصاف سے بنتی ہیں، اور انصاف وہی ہے جو ہر شہری کو یہ احساس دلائے کہ اس کا مذہب، اس کی عبادت گاہ اور اس کا وقار، ریاست کی نگاہ میں یکساں محترم ہیں۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading