بی جے پی نے "اللہ” کے نام پر لیے گئے حلف کو چیلنج کر دیا – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

بی جے پی نے "اللہ” کے نام پر لیے گئے حلف کو چیلنج کر دیا

بی جے پی نے "اللہ” کے نام پر لیے گئے حلف کو چیلنج کر دیا، 19 کونسلروں کے خلاف شکایت

کنّور، 30 جون: کیرالہ کے کنّور میونسپل کارپوریشن میں منتخب 19 کونسلروں کے حلف کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چیلنج کرتے ہوئے ضلع کلکٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے حلف کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ قانونی طریقے سے حلف لینے کی ہدایت دی جائے۔

بی جے پی کے ضلع صدر پی کے ونود کمار کی جانب سے دائر شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل)، ایس ڈی پی آئی اور کانگریس کے بعض منتخب نمائندوں نے آئین اور متعلقہ قوانین میں درج مقررہ الفاظ کی بجائے "اللہ” کے نام پر حلف لیا، جس سے حلف کی قانونی حیثیت مشکوک ہو گئی۔

شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سینئر ترین کونسلر ٹی پی جمال نے بھی مبینہ طور پر "اللہ” کے نام پر حلف لیا، اس لیے ان کی جانب سے دیگر کونسلروں کو دلایا گیا حلف بھی قانونی اعتبار سے قابلِ اعتراض ہے۔

بی جے پی نے اپنی درخواست میں حالیہ کیرالہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا ہے جس میں ترواننت پورم کارپوریشن کے بی جے پی کونسلروں کے "مدر انڈیا”، "گرو دیوا” اور دیگر اضافی الفاظ کے ساتھ لیے گئے حلف کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ حلف لینے کا حکم دیا گیا تھا۔

تاحال ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس نئی شکایت پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔


English News

BJP challenges oath taken in the name of "Allah” by 19 Kannur Corporation councillors

Kannur, June 30: The Bharatiya Janata Party (BJP) has approached the Kannur District Collector seeking the cancellation of the oath taken by 19 councillors of the Kannur Municipal Corporation, alleging that they did not follow the statutory form prescribed under the law.

According to the complaint filed by BJP district president P. K. Vinod Kumar, several councillors belonging to the Indian Union Muslim League (IUML), SDPI and the Congress allegedly took the oath in the name of "Allah” instead of using the prescribed wording. The BJP argues that this makes the oath legally invalid.

The complaint also questions the validity of the oath administered by senior councillor T. P. Jamal, contending that if his own oath was invalid, the oath he administered to other councillors would also be legally defective.

The BJP has relied on a recent Kerala High Court judgment that declared invalid the oath taken by certain BJP councillors in Thiruvananthapuram after they added expressions such as "Mother India” and "Gurudeva” to the prescribed oath, directing them to take the oath afresh.

No final decision has yet been taken by the district administration on the BJP’s complaint.


کیا "God” اور "اللہ” ایک ہی ہیں؟

لسانی اعتبار سے ہاں، بڑی حد تک۔

  • Allah عربی زبان کا اسمِ خاص ہے، جو مسلمانوں کے نزدیک ایک ہی معبود کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
  • God انگریزی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب بھی "خدا” یا "معبود” ہے۔ جب انگریزی میں God بڑے حرف G کے ساتھ لکھا جاتا ہے تو اس سے عموماً واحد خدا مراد ہوتا ہے۔
  • عرب عیسائی، عرب یہودی اور عرب مسلمان تینوں اپنی عربی عبادات اور تحریروں میں خدا کے لیے "اللہ” ہی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔
  • اسی طرح انگریزی تراجمِ قرآن میں "اللہ” کا ترجمہ اکثر God یا Allah (God) کے طور پر کیا جاتا ہے۔

لہٰذا لسانی اور مذہبی مفہوم میں "Allah” اور "God” ایک دوسرے کے متبادل سمجھے جاتے ہیں، اگر مراد واحد خدا ہو۔

پھر قانونی تنازعہ کیوں پیدا ہوا؟

یہ تنازعہ مذہبی نہیں بلکہ قانونی تعبیر کا ہے۔

اگر کیرالہ کے متعلقہ قانون میں حلف کے الفاظ "in the name of God” یا "solemnly affirm” ہی درج ہیں، تو عدالت یہ دیکھتی ہے کہ کیا انہی الفاظ پر عمل ہوا یا نہیں۔

دو ممکنہ قانونی تشریحات سامنے آ سکتی ہیں:

  1. بی جے پی کا مؤقف: چونکہ قانون میں لفظ God لکھا ہے، اس لیے Allah کہنا مقررہ متن میں تبدیلی ہے، لہٰذا حلف دوبارہ لیا جانا چاہیے۔
  2. دوسرا قانونی مؤقف: چونکہ Allah کا مطلب بھی God ہی ہے، اس لیے یہ محض زبان کا فرق ہے، متن میں ایسی تبدیلی نہیں جس سے حلف باطل ہو۔

کیا بی جے پی کا مؤقف لازماً درست ہے؟

قانونی طور پر یہ بات ابھی قطعی طور پر درست نہیں کہی جا سکتی۔

کیرالہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے میں جن الفاظ کو غلط قرار دیا گیا، وہ "Mother India”، "Gurudeva” یا "Oommen Chandy” جیسے اضافی نام تھے، جو قانون میں موجود نہیں تھے۔ یہ معاملہ "Allah” سے مختلف ہے، کیونکہ یہاں بحث اس بات پر ہے کہ آیا "Allah” دراصل "God” ہی کا مترادف ہے یا نہیں۔

لہٰذا جب تک عدالت اس مخصوص سوال پر واضح فیصلہ نہ دے، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ "اللہ” کے نام پر لیا گیا حلف لازماً غیر قانونی ہے۔ یہ ایک قابلِ بحث قانونی مسئلہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ عدالت یا مجاز اتھارٹی ہی کرے گی۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading