/ Sep 21, 2026
Trending
الف نیوز شمارہ نمبر: 238| تاریخ: 13 جون 2026| ہفتہ
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
ہندوستان کی سیاست میں بعض ملاقاتیں محض رسمی نہیں ہوتیں بلکہ آنے والے زمانوں کی سمت کا تعین بھی کرتی ہیں۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ C. Joseph Vijay کی NITI Aayog کی گورننگ کونسل میں پہلی شرکت اور وہاں Narendra Modi سے ملاقات کو بھی اسی زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ وجئے نے اپنی تقریر میں چنئی سے کنیا کماری تک ایک ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور، قومی شاہراہوں کی توسیع، سیلابی تحفظ، خلائی صنعت کے فروغ اور نوجوانوں کی تربیت جیسے منصوبوں کے لیے مرکزی حکومت سے تعاون طلب کیا۔ بظاہر یہ مطالبات ایک ریاست کے ترقیاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں، لیکن ان کے سیاسی مضمرات کہیں زیادہ گہرے دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں تمل ناڈو اور مرکز کے تعلقات خوشگوار نہیں رہے تھے۔ مرحوم M. K. Stalin کے دورِ حکومت میں مرکز اور ریاست کے درمیان اختیارات، مالی وسائل اور وفاقی حقوق کے متعدد معاملات پر اختلافات سامنے آتے رہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بارہا یہ شکایت کی گئی کہ مرکز تمل ناڈو کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے، جبکہ مرکز اپنے موقف پر قائم رہا۔ اس کشیدہ ماحول نے وفاقی سیاست میں ایک واضح خلیج پیدا کر دی تھی۔
مگر 2026 کے انتخابات نے تمل ناڈو کی سیاست کا منظرنامہ بدل دیا۔ روایتی ڈراوڑی جماعتوں کی شکست اور وجئے کی غیر متوقع کامیابی نے نہ صرف ریاستی سیاست کو نئی شکل دی بلکہ نئی دہلی کو بھی اپنے سیاسی حساب کتاب پر نظرثانی کا موقع دیا۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکز اور تمل ناڈو کے درمیان تعلقات کی نوعیت محاذ آرائی سے مکالمے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہاں ایک دلچسپ تاریخی حوالہ بھی موجود ہے۔ سن 2014 میں جب نریندر مودی پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے تو فلمی دنیا کے مقبول ستارے وجئے نے ان سے ملاقات کرکے مبارکباد پیش کی تھی۔ اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایک دن یہی اداکار تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے مودی کے روبرو بیٹھ کر ریاست کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری طلب کریں گے۔ تاریخ کبھی کبھی بڑے دلکش دائروں میں سفر کرتی ہے۔
البتہ یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ وجئے اور مودی کے درمیان کوئی مستقل سیاسی اتحاد تشکیل پا رہا ہے۔ وجئے کی سیاسی کامیابی بڑی حد تک ان کی اس شبیہ پر قائم ہے کہ وہ تمل ناڈو کے مفادات کے محافظ ہیں اور ریاستی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ دوسری جانب مودی حکومت بھی جنوبی ہند میں اپنی سیاسی موجودگی کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ اس لیے دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کی بنیاد فی الحال سیاسی مفادات سے زیادہ ترقیاتی ضرورتیں معلوم ہوتی ہیں۔
تاہم سیاست میں تعلقات ہمیشہ نظریات سے نہیں بلکہ امکانات سے تشکیل پاتے ہیں۔ اگر مرکز تمل ناڈو کے بنیادی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں سنجیدہ تعاون فراہم کرتا ہے اور وجئے بھی تصادم کی سیاست کے بجائے تعمیری مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں تو یہ تعلق ریاست اور مرکز دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
آنے والے مہینے اس سوال کا جواب دیں گے کہ آیا یہ ملاقات صرف ایک سرکاری تقریب کا حصہ تھی یا واقعی ہندوستانی وفاقی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ چنئی اور نئی دہلی کے درمیان جو دروازے کئی برسوں سے نیم وا تھے، وہ اب پہلے سے زیادہ کھلتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ اور سیاست میں بعض اوقات ایک کھلا ہوا دروازہ ہی تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.