خاموشی کے حصار میں قید سوال – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

خاموشی کے حصار میں قید سوال

الف نیوز شمارہ نمبر: 234| تاریخ: 9 جون 2026| منگل

اداریہ

سید اکبر زاہد

کبھی کبھی تاریخ کے اوراق پر ایسے سوال ثبت ہو جاتے ہیں جو صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ ایک پوری قوم کے زخمی دل کی دھڑکن بن جاتے ہیں۔ آج ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں میں بھی ایک ایسا ہی سوال کروٹیں لے رہا ہے۔ ایک ایسا سوال جو مسجد کے منبر سے لے کر مدرسے کے حجرے تک، خانقاہ کی خاموش فضاؤں سے لے کر عام مسلمان کے بے چین دل تک گونج رہا ہے۔

یہ سوال جماعتِ اسلامی ہند، جمعیۃ علماء ہند، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی، سماجی اور سیاسی تنظیموں سے ہے۔

آخر ہماری آواز کہاں ہے؟

جب عبادت گاہوں پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہوں، جب صدیوں کی تاریخ اپنے وجود کے دفاع پر مجبور ہو، جب مدارس کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہو، جب نفرت انگیز بیانات سماجی فضا کو زہر آلود کر رہے ہوں، جب بلڈوزر انصاف کے بجائے خوف کی علامت بنتے جا رہے ہوں، جب ایک مخصوص طبقے کے دلوں میں عدمِ تحفظ کے احساسات بڑھتے جا رہے ہوں، تو ایسے میں قوم کی نظریں اپنے قائدین اور اداروں کی طرف اٹھنا فطری ہے۔

یہ سوال الزام نہیں، احتساب بھی نہیں، بلکہ ایک بے چین دل کی پکار ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں نے ہمیشہ اپنی ملی تنظیموں پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے ادارے قائم کیے، مدارس کو آباد رکھا، تنظیموں کو مضبوط بنایا، اور ہر مشکل وقت میں اپنے قائدین کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ آج بھی لاکھوں کارکن اور کروڑوں وابستگان ان اداروں کے ساتھ ہیں۔ قوم کے اندر وسائل کی کمی نہیں، صلاحیتوں کا فقدان نہیں، علمی سرمایہ بھی موجود ہے اور قانونی و جمہوری جدوجہد کے راستے بھی کھلے ہیں۔

پھر سوال یہ ہے کہ قوم کو واضح سمت کیوں دکھائی نہیں دیتی؟

عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان چیلنجوں کے مقابلے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے؟ کون سے قانونی، سماجی، تعلیمی اور سیاسی اقدامات جاری ہیں؟ کون سی جدوجہد پسِ پردہ چل رہی ہے؟ اور مستقبل کے لیے کیا لائحۂ عمل تیار کیا گیا ہے؟

خاموشی ہمیشہ حکمت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے، مایوسی کو بڑھاتی ہے اور کمزور دلوں میں بے بسی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ قوم کو صرف تسلی نہیں، اعتماد بھی چاہیے؛ صرف بیانات نہیں، سمت بھی چاہیے؛ صرف امید نہیں، عملی منصوبہ بھی چاہیے۔

یہ وقت اختلافات کو ہوا دینے کا نہیں بلکہ صفوں کو منظم کرنے کا ہے۔ یہ وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں بلکہ مشترکہ حکمتِ عملی تشکیل دینے کا ہے۔ قوم کے اداروں، علما، دانشوروں، وکلا، اساتذہ، صحافیوں اور نوجوانوں کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر جمع ہونا ہوگا جہاں مسائل کا تجزیہ بھی ہو اور ان کے حل کی عملی راہیں بھی متعین ہوں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مشکلات کے اندھیرے ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔ لیکن اندھیروں کو شکست دینے کے لیے چراغوں کا روشن ہونا ضروری ہے۔ قوم کے دل آج انہی چراغوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے رہنما، ان کے ادارے اور ان کی تنظیمیں اس نازک دور میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں اور مستقبل کے لیے ان کے پاس کیا منصوبہ ہے۔

یہ سوال کسی فرد کا نہیں، ایک احساس کا ہے۔

یہ سوال کسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ قوم کے بہتر مستقبل کے حق میں ہے۔

اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب خاموشی کے حصار کو توڑ کر اعتماد، بصیرت اور عملی جدوجہد کی نئی داستان رقم کی جانی چاہیے، تاکہ آنے والی نسلیں یہ کہہ سکیں کہ جب آزمائش کا وقت آیا تھا تو قوم کے ادارے بیدار تھے، رہنما متحرک تھے، اور ملت تنہا نہیں تھی۔
اکبر زاہد

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading