درویشِ اردو عبدالباری مخلص کو اعزازی ڈاکٹریٹ:  میزبان کمیٹی کی جانب سے ایک لاکھ روپے کا اعزازی چیک بھی پیش – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

درویشِ اردو عبدالباری مخلص کو اعزازی ڈاکٹریٹ:  میزبان کمیٹی کی جانب سے ایک لاکھ روپے کا اعزازی چیک بھی پیش

اسلامیہ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں اردو زبان کے بے لوث خادم، پاسبانِ اردو اور ماہنامہ ’’نشانِ منزل‘‘ کے مدیر جناب عبدالباری مخلص صاحب کے اعزاز میں ایک پُروقار تقریبِ تکریم و تہنیت منعقد ہوئی، جس میں علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں سے وابستہ ممتاز شخصیات نے شرکت کرکے اردو کے اس خاموش مگر عظیم سپاہی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

تقریب کا آغاز جناب ذکی احمد عمری کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ مولوی ارشاد احمد صاحب نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مہمانانِ گرامی کا استقبال انجمنِ خدام الاسلام کے صدر جناب ٹی ایم عبدالرؤف خالد صاحب نے کیا اور اپنے استقبالیہ کلمات میں عبدالباری مخلص صاحب کی اردو دوستی اور ادبی خدمات کو سراہا۔

الف نیوز کے مدیر سید اکبر زاہد نے اپنے خطاب میں عبدالباری مخلص صاحب کی طویل ادبی و صحافتی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی ترویج، اشاعت اور خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ ماہنامہ ’’نشانِ منزل‘‘ ان کی اسی بے لوث جدوجہد کا زندہ ثبوت ہے جس نے برسوں سے اردو کے قاری اور قلمکار کو ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے۔

دیگر مقررین میں سابق رکنِ اسمبلی جناب عبدالباسط صاحب، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قائد جناب فصیح اکرم، ادارۂ ادبِ اسلامی کے صدر جناب اپاپلے اشفاق احمد، وانمباڑی اردو اکیڈمی کے صدر جناب ن۔م۔ نعیم صاحب، جناب او۔ایم۔ اعجاز احمد اور وی۔ایم۔ای سوسائٹی کے صدر جناب پٹیل محمد یوسف صاحب شامل تھے۔

اس موقع پر وی۔ایم۔ای سوسائٹی کے صدر جناب پٹیل محمد یوسف صاحب نے نہایت معلوماتی اور مؤثر خطاب کیا۔ انہوں نے حاضرین کو اعزازی ڈاکٹریٹ (Honorary Doctorate) کی اہمیت اور اس کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کوئی تعلیمی ڈگری نہیں بلکہ معاشرے، علم، ادب، صحافت، سماجی خدمت یا کسی دوسرے شعبے میں غیر معمولی اور طویل خدمات انجام دینے والی شخصیات کے اعتراف میں پیش کیا جانے والا ایک اعلیٰ اعزاز ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی مختلف جامعات اور ادارے ایسی ممتاز شخصیات کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازتے ہیں۔

پٹیل محمد یوسف صاحب نے مزید وضاحت کی کہ جناب عبدالباری مخلص صاحب کو پیش کی جانے والی یہ اعزازی ڈاکٹریٹ دہلی کی ایک معتبر تنظیم کی جانب سے عطا کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اعزاز کے لیے جناب او۔ایم۔ اعجاز احمد صاحب نے عبدالباری مخلص صاحب کی ادبی، صحافتی اور اردو زبان کے فروغ کے لیے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط خدمات کی سفارش کی تھی، جسے متعلقہ ادارے نے غور و خوض کے بعد منظور کیا اور ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔

اپنے خطاب کے دوران پٹیل محمد یوسف صاحب نے ایک تفصیلی سپاس نامہ بھی پڑھ کر سنایا، جس میں عبدالباری مخلص صاحب کی ادبی، صحافتی، سماجی اور تعلیمی خدمات کا جامع تذکرہ کیا گیا تھا۔ سپاس نامے میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد، ماہنامہ ’’نشانِ منزل‘‘ کی اشاعت، نئی نسل میں اردو شعور بیدار کرنے کی کاوشوں اور ملت و سماج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

سپاس نامہ کی قرأت مکمل ہونے کے بعد جناب پٹیل محمد یوسف صاحب نے اسے باضابطہ طور پر جناب عبدالباری مخلص صاحب کی خدمت میں پیش کیا، جسے حاضرین نے پُرتپاک تالیوں کے ذریعے سراہا۔ یہ لمحہ تقریب کے یادگار اور جذباتی لمحات میں شمار ہوا، جب ایک عمر اردو کی خدمت میں گزارنے والی شخصیت کو ان کی خدمات کا باضابطہ اعتراف پیش کیا گیا۔

تمام مقررین نے عبدالباری مخلص صاحب کی علمی بصیرت، ادبی خدمات، انکساری اور اردو زبان کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر حکیم سید ستار صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ عبدالباری مخلص صاحب کا نام اردو زبان کی خدمت کے حوالے سے ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مخلص صاحب کی شخصیت نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کی خدمات اردو ادب کے روشن ابواب میں شمار کی جائیں گی۔

تقریب کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب جناب عبدالباری مخلص صاحب کی خدمت میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی سند پیش کی گئی۔ اس موقع پر حاضرین نے پرجوش انداز میں تالیاں بجا کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔ بعد ازاں تمام میزبان اداروں کی جانب سے شال پوشی کی گئی اور یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔

ڈاکٹر جی۔ایچ۔ اکرام اللہ صاحب اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر زاہدہ صاحبہ نے بھی عبدالباری مخلص صاحب کا اعزاز کرتے ہوئے انہیں شال اور مومنٹو پیش کیا۔ ڈاکٹر زاہدہ صاحبہ نے اپنے مختصر مگر مؤثر خطاب میں عبدالباری مخلص صاحب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اردو ادب کے لیے ان کی بے مثال خدمات کا اعتراف کیا۔

انڈین یونین مسلم لیگ کے قائد جناب ایس۔ٹی۔ نثار احمد صاحب نے بھی شال پوشی کرتے ہوئے مومنٹو پیش کیا، جبکہ آمبور کے معروف تاجرِ چرم جناب فتح محمد طٰہ صاحب نے بھی انہیں شال اور یادگاری تحفہ پیش کرکے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ ان شخصیات کے علاوہ عبدالباری مخلص صاحب کے بے شمار چاہنے والوں، شاگردوں، احباب اور اردو کے شیدائیوں نے آگے بڑھ کر شال پوشی کی اور مبارک باد پیش کی۔

تقریب کے اختتام سے قبل میزبان کمیٹی کی جانب سے عبدالباری مخلص صاحب کی خدمت میں ایک لاکھ روپے کا اعزازی چیک بھی پیش کیا گیا، جس پر حاضرین نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔

اپنے صدارتی اور تشکری خطاب میں جناب عبدالباری مخلص صاحب جذبات سے مغلوب نظر آئے۔ انہوں نے تمام اداروں، مہمانوں اور شرکائے تقریب کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک اردو زبان کی خدمت کے لیے وقف رہیں گے۔ انہوں نے اردو کے تمام محبانِ زبان سے اپیل کی کہ اس علاقے میں ایک ’’اردو گھر‘‘ تعمیر کیا جائے، جہاں اردو زبان و ادب کی ترقی، ترویج اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مستقل بنیادوں پر کام ہو سکے۔

ان کے اس پُرخلوص پیغام نے حاضرین کے دلوں کو چھو لیا اور محفل میں اردو کے روشن مستقبل کے لیے ایک نئی امید جگا دی۔ آخر میں اجتماعی دعا کے ساتھ یہ یادگار اور تاریخی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

یہ محفل دراصل ایک فرد کی تکریم نہیں بلکہ اردو زبان، تہذیب، علم اور اخلاص کی ان اقدار کا جشن تھی جن کی نمائندگی عبدالباری مخلص صاحب نصف صدی سے زیادہ عرصے سے کرتے آ رہے ہیں۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading