/ Sep 20, 2026
Trending
اگر حکومت وندے ماترم کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دینے پر غور کر رہی ہے، تو بہت سے اہلِ ادب اور سماجی مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ #سارے جہاں سے اچھا# جیسے آفاقی اور ہمہ گیر قومی نغمے کو بھی سرکاری سطح پر خصوصی قومی شناخت کیوں نہ دی جائے۔
علامہ اقبال کی یہ نظم ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ہندوستان کی تہذیبی ہم آہنگی، کثرت میں وحدت اور محبتِ وطن کی علامت بنی ہوئی ہے۔
#مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا#
جیسے اشعار آج بھی نسلوں کو قریب لانے کی معنوی طاقت رکھتے ہیں۔
بعض دانشوروں کے مطابق، اگر قومی علامتوں کا مقصد عوامی جذبات، تاریخی یادداشت اور مشترکہ تہذیب کی نمائندگی ہے، تو #سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا# بھی اسی احترام اور قومی اعتراف کا مستحق ہے۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.