الف نیوز شمارہ نمبر: 197 | تاریخ: 2 مئی 2026 |ہفتہ
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
عالمی سیاست اور معیشت کے افق پر بعض فیصلے محض اقتصادی نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندر طاقت، حکمتِ عملی اور مستقبل کی سمتوں کے اشارے بھی سموئے ہوتے ہیں۔ OPEC سے United Arab Emirates کا اخراج بھی اسی نوعیت کا ایک فیصلہ ہے، جو بظاہر تیل کی پیداوار سے متعلق ہے، مگر درحقیقت عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن کی عکاسی کرتا ہے۔
یو اے ای کا یہ قدم ایک طویل پس منظر رکھتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس نے اپنی تیل پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی، مگر اوپیک کی طے کردہ حدوں نے اسے اپنی مکمل صلاحیت کے اظہار سے روکے رکھا۔ اب اس پابندی سے آزاد ہو کر یو اے ای نہ صرف اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں اپنی جگہ کو مزید مستحکم بھی کر سکتا ہے۔ یہ آزادی اسے ایک خودمختار توانائی طاقت کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جہاں وہ قیمتوں، رسد اور تجارتی حکمتِ عملی کے فیصلے اپنی ترجیحات کے مطابق کر سکے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Strait of Hormuz میں کشیدگی اور Iran کے ساتھ جاری تنازع نے عالمی توانائی کی فراہمی کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ اس تناظر میں یو اے ای کا بڑھتا ہوا کردار نہ صرف خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے بلکہ ایک موقع بھی ہے کہ وہ خود کو ایک قابلِ اعتماد سپلائر کے طور پر پیش کرے۔ اگر حالات معمول پر آتے ہیں تو یو اے ای کی اضافی پیداوار عالمی منڈی میں قیمتوں کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے، جو اس کے لیے معاشی فائدے کے ساتھ ساتھ سفارتی اہمیت بھی رکھتی ہے۔
دوسری جانب United States کے مفادات اس تبدیلی سے گہرے طور پر جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اوپیک کی طاقت میں کمی دراصل اس کے اس کردار کو محدود کرتی ہے جس کے ذریعے وہ عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ امریکہ، جو خود بھی ایک بڑا توانائی پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، ایک ایسی منڈی کو ترجیح دیتا ہے جہاں زیادہ مسابقت ہو اور قیمتیں کسی ایک اتحاد کے کنٹرول میں نہ ہوں۔ اس کے علاوہ داخلی سطح پر مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں بھی امریکی سیاست میں ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے تیل کی قیمتوں میں کمی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ ایسے میں یو اے ای کا یہ قدم امریکہ کے لیے ایک غیر اعلانیہ سہارا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال Donald Trump کی حکومت کے لیے بھی اہم ہے، جو داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی رسد بڑھتی ہے اور قیمتوں میں کمی آتی ہے، تو اس کا براہِ راست اثر امریکی عوام کی معاشی حالت پر پڑے گا، جو سیاسی طور پر بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس طرح یو اے ای اور امریکہ کے درمیان تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ ایک گہری معاشی و اسٹریٹجک ہم آہنگی کی صورت اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اس فیصلے کے اثرات صرف یو اے ای اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ Iran کے لیے یہ ایک چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اس کی معیشت بڑی حد تک توانائی کی برآمدات پر منحصر ہے۔ اگر یو اے ای عالمی منڈی میں زیادہ حصہ حاصل کرتا ہے اور قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ایران کی آمدنی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت بھی متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ پہلے ہی عالمی پابندیوں اور سیاسی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔
دیگر خلیجی اور اسلامی ممالک کے لیے بھی یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ Gulf Cooperation Council جیسے اتحادوں کی بنیاد باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات پر رکھی گئی تھی، مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اتحاد اسی مضبوطی کے ساتھ قائم رہ سکیں گے یا ہر ملک اپنے انفرادی مفادات کو ترجیح دینے لگے گا۔ اگر مزید ممالک اوپیک سے الگ ہونے کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو یہ تنظیم ایک کمزور اور غیر مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
درحقیقت یو اے ای کا یہ قدم ایک وسیع تر عالمی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ممالک اجتماعی نظم کے بجائے انفرادی حکمتِ عملی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ تبدیلی وقتی طور پر بعض ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، مگر اس کے طویل المدتی اثرات عالمی استحکام کے لیے سوالیہ نشان بھی بن سکتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ تیل کی یہ کہانی اب صرف توانائی کی نہیں رہی، بلکہ طاقت، سیاست اور تعلقات کی ایک نئی بساط بن چکی ہے۔ United Arab Emirates نے اس بساط پر ایک اہم چال چلی ہے—اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس کے نتیجے میں عالمی نظام میں توازن قائم ہوتا ہے یا ایک نئی بے یقینی جنم لیتی ہے۔







Leave a Reply