الف نیوز شمارہ نمبر: 190| تاریخ: 25 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
بھارت کی جمہوریت کی بنیاد اس یقین پر قائم ہے کہ انتخابی عمل شفاف، غیر جانب دار اور عوامی اعتماد کا آئینہ ہوگا۔ مگر حالیہ واقعات نے اس بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Gyanesh Kumar کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے بار بار امپیچمنٹ موشن کا لایا جانا محض سیاسی کشمکش نہیں، بلکہ ایک گہری تشویش کی علامت ہے — وہ تشویش جو جمہوری اداروں کی غیر جانبداری سے جڑی ہوئی ہے۔
اپوزیشن ارکانِ پارلیمان کے الزامات کے مطابق، Election Commission of India نے اپنے آئینی کردار سے انحراف کرتے ہوئے انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ میں “منتخب سختی” (Selective Enforcement) کا مظاہرہ کیا۔ اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یہ صرف ایک ادارہ جاتی کمزوری نہیں بلکہ جمہوریت کے بنیادی اصول — مساوات — کی نفی ہے۔
ووٹنگ کے حق سے محرومی — ایک خاموش بحران
سب سے سنگین الزام وہ ہے جس میں مغربی بنگال اور اتر پردیش میں “وسیع پیمانے پر حقِ رائے دہی سے محرومی” (Mass Disenfranchisement) کی بات کی گئی ہے۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے نام پر لاکھوں شہریوں کے نام حذف کیے جانا ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف مشکوک ہے بلکہ خطرناک بھی۔
جمہوریت میں ووٹ محض ایک حق نہیں بلکہ شہری کی آواز ہوتا ہے۔ جب یہ آواز خاموش کر دی جائے، تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ اگر انتخابی ادارہ ہی اس عمل میں ملوث ہو جائے تو سوال صرف انتظامی نہیں بلکہ اخلاقی اور آئینی بھی بن جاتا ہے۔
طاقت کا جھکاؤ — ادارے یا حکومت؟
الزامات یہ بھی ہیں کہ Narendra Modi کے سرکاری نشریاتی اداروں کے ذریعے خطاب کو نظر انداز کیا گیا، حالانکہ اسے انتخابی مہم کا حصہ سمجھا جا سکتا تھا۔ اگر ایک جانب اپوزیشن کے خلاف فوری کارروائی ہو اور دوسری جانب حکومت کے اقدامات کو نظر انداز کیا جائے، تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں Rajya Sabha میں پیش کیا گیا امپیچمنٹ موشن محض ایک آئینی عمل نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کی کوشش بن جاتا ہے۔
قانونی گرفت کیسے ممکن ہے؟
آئینِ ہند کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا طریقہ کار انتہائی سخت رکھا گیا ہے تاکہ اس عہدے کی آزادی برقرار رہے۔
- آرٹیکل 324(5) اور آرٹیکل 124(4) کے تحت پارلیمنٹ میں باقاعدہ تحقیقات اور دو تہائی اکثریت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
- اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو یہ نہ صرف عہدے سے برطرفی بلکہ آئینی بدعنوانی (constitutional misconduct) کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔
مزید برآں، Supreme Court of India اس پورے عمل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر شہریوں کے بنیادی حقوق — جیسے حقِ رائے دہی — کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے۔
عوام کے لیے پیغام
یہ مسئلہ کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں، بلکہ ہر اس شہری کا ہے جس کا ووٹ اس کی شناخت ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات سے نہیں بلکہ منصفانہ انتخابات سے زندہ رہتی ہے۔
اگر نگہبان ہی غیر جانبدار نہ رہے، تو عوام کو بیدار ہونا ہوگا — سوال کرنا ہوگا، شفافیت کا مطالبہ کرنا ہوگا، اور آئینی اداروں کو ان کی اصل ذمہ داری یاد دلانی ہوگی۔
جمہوریت کی اصل طاقت بیلٹ باکس میں نہیں، بلکہ اس یقین میں ہے کہ ہر ووٹ کی قدر برابر ہے۔ جب یہ یقین متزلزل ہو جائے، تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔






Leave a Reply