الف نیوز شمارہ نمبر: 189| تاریخ: 24 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
23 اپریل 2026
آج ہندوستان کی دو اہم ریاستوں، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں جمہوریت کا ایک شاندار منظر دیکھنے کو ملا، جہاں عوام نے غیرمعمولی جوش و خروش کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیا۔
اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو میں تقریباً 84.98 فیصد جبکہ مغربی بنگال میں 92 فیصد سے زائد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی — جو کہ دونوں ریاستوں کی انتخابی تاریخ کا بلند ترین تناسب ہے۔ اس سے قبل 2011 کے انتخابات میں یہ شرح کافی کم تھی، جسے اس بار عوامی بیداری نے پیچھے چھوڑ دیا۔
تمل ناڈو میں مقابلہ تین اہم سیاسی دھڑوں کے درمیان رہا، جہاں ایم کے اسٹالن کی قیادت میں اتحاد نے "دراوڑی ماڈل” کو بنیاد بنایا، جبکہ مخالف اتحاد نے بدعنوانی کے خاتمے اور بہتر حکمرانی کے وعدے کیے۔ انتخابات پرامن رہے تاہم وانمباڑی اور جولار پیٹ دو مقامی سیاسی ذمہ داروں کے مابین جھڑپیں ہوئیں.
دوسری جانب مغربی بنگال میں سیاسی فضا خاصی کشیدہ رہی، جہاں بعض مقامات پر جھڑپوں اور ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
انتخابی کمیشن کے سربراہ نے اس غیرمعمولی شرکت پر عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے جمہوریت کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔
ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی، جبکہ مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو متوقع ہے۔
Festival of Democracy — Record Voter Turnout in Tamil Nadu and West Bengal
A remarkable democratic exercise unfolded today in the Indian states of Tamil Nadu and West Bengal, as voters turned out in unprecedented numbers to cast their ballots.
Tamil Nadu recorded an impressive voter turnout of nearly 84.98%, while West Bengal crossed the 92% mark — the highest in their electoral histories, surpassing previous records set in 2011.
In Tamil Nadu, the contest witnessed a three-cornered battle. The alliance led by M. K. Stalin emphasized the “Dravidian Model” of governance, while opposition alliances campaigned on promises of corruption-free administration and improved governance.
Meanwhile, West Bengal saw a politically charged environment, with sporadic reports of clashes and allegations of voter intimidation in certain areas. Despite these challenges, the electorate participated in large numbers, reflecting strong democratic engagement.
The Election Commission hailed the record turnout as a testament to the strength and vibrancy of democracy. Vote counting is scheduled for May 4, with the next phase of polling in West Bengal set for April 29.
ہمارا تاثر:
جب عوام خوف، اختلاف اور شور کے بیچ بھی اپنے ووٹ کی طاقت پر یقین رکھیں، تو جمہوریت صرف ایک نظام نہیں رہتی — وہ ایک شعور بن جاتی ہے۔ یہ ریکارڈ ٹرن آؤٹ اسی بیداری کی علامت ہے، جہاں ہر ووٹ ایک امید ہے، اور ہر امید ایک بہتر مستقبل کی بنیاد۔






Leave a Reply