25°
Sunny, April 21, 2026 in Kathmandu
این. رام کا مرکزی حکومت پر حد بندی کو لے کر سخت تنقید

سیاسی منظرنامہ: حدبندی اور خواتین ریزرویشن پر نئی بحث

چنئی میں ایک فکری نشست کے دوران این. رام , ہندو گروپ کے ڈاریکٹر نے مرکز کی جانب سے پیش کیے گئے حدبندی (Delimitation) اور خواتین ریزرویشن بل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں معاملات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، مگر انہیں جان بوجھ کر یکجا کیا گیا تاکہ عوام میں ابہام پیدا کیا جا سکے اور اپوزیشن کو موردِ الزام ٹھہرایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے لیے نشستوں کی مخصوصی ایک الگ آئینی معاملہ ہے، جبکہ حدبندی ایک تکنیکی و انتظامی عمل ہے۔ ان کے مطابق ان دونوں کو ایک ساتھ پیش کرنا ایک "دھوئیں اور آئینے” (smoke and mirrors) کی حکمت عملی تھی، جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

M. K. Stalin کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس بل کے ممکنہ نقصانات کو بروقت سمجھا اور مختلف فورمز پر مؤثر انداز میں پیش کیا۔

این۔ رام کے مطابق 1976 میں نافذ کی گئی حدبندی کی معطلی (freeze) اور بعد ازاں 2001 میں اس کی توسیع ایک سمجھوتہ تھی، جس کے تحت آبادی پر قابو نہ پانے والی ریاستوں کو زیادہ نمائندگی مل سکتی تھی، جبکہ ترقی یافتہ ریاستیں اپنی کامیابی کی قیمت ادا کرتی تھیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز 2029 کے انتخابات سے پہلے حدبندی کا عمل مکمل کرنا چاہتا ہے تاکہ ہندی بولنے والی ریاستوں میں سیاسی وزن بڑھایا جا سکے۔

اس موقع پر ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ A. Raja نے کہا کہ حدبندی ایک قانونی عمل ہے جسے پہلے پارلیمنٹ میں مکمل بحث اور منظوری کے بعد ہی آئینی ترمیم کی شکل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حلقہ بندیوں کا تعین کرنا Delimitation Commission of India کا کام ہے، نہ کہ سیاسی قیادت کا۔

انہوں نے B. R. Ambedkar کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ شمالی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان نمائندگی کا توازن بگڑ سکتا ہے، جو قومی یکجہتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔


At a seminar held in Chennai, N. Ram strongly criticized the Union government’s move to combine the Delimitation and Women’s Reservation Bills. He asserted that the two issues are entirely unrelated and were deliberately clubbed together to create confusion and shift blame onto the opposition.

He emphasized that women’s reservation is a constitutional matter concerning representation, whereas delimitation is a technical exercise involving the redrawing of electoral boundaries. According to him, merging the two reflects a “smoke-and-mirrors” strategy aimed at political gain.

Praising M. K. Stalin, he noted that the Tamil Nadu Chief Minister effectively understood the implications of the Bill and articulated its potential risks on appropriate platforms.

N. Ram also explained that the freeze on population-based delimitation, introduced in 1976 and extended in 2001, was a compromise. It allowed states with higher population growth to gain representation, while more developed states effectively faced a disadvantage.

He alleged that the Centre intended to carry out delimitation before the next Census and ahead of the 2029 general elections, which could increase political weight in the Hindi-speaking regions.

DMK MP A. Raja added that delimitation is a statutory process that must first be debated and passed by Parliament before any constitutional amendment is introduced. He stressed that determining constituencies is the responsibility of the Delimitation Commission of India, not political leaders.

Quoting B. R. Ambedkar, he warned that disproportionate representation could lead to a dominance of the North over the South, raising concerns about national balance and unity.

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading