الف نیوز شمارہ نمبر: 185 | تاریخ: 20 اپریل 2026 | مدیرِ اعلیٰ: سیّد اکبر زاہد
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
مصنوعی ذہانت: ایک نیا نوآبادیاتی نظام؟
دنیا ایک نئی دوڑ میں شامل ہے—یہ دوڑ اسلحہ یا زمین کی نہیں، بلکہ ذہانت کی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں آج سب کی نظریں امریکہ اور چین پر جمی ہوئی ہیں۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون اس دنیا کے اصول طے کرے گا جس میں باقی سب کو جینا ہوگا۔
بین الاقوامی امور کی ماہر عالیہ واعظ اپنے حالیہ مضمون میں ایک نہایت اہم نکتہ اٹھاتی ہیں:
یہ نئی AI معیشت دراصل ایک پرانے نوآبادیاتی ڈھانچے کو نئی شکل میں زندہ کر رہی ہے۔
جہاں ایک طرف سیلیکون ویلی، یورپ اور چین ایجاد و اختراع کے مراکز بن چکے ہیں، وہیں افریقہ اور ایشیا کو محض محنت، ڈیٹا لیبلنگ اور نظاموں کے استعمال تک محدود کر دیا گیا ہے۔ لاکھوں افراد AI ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے کام کر رہے ہیں—اکثر انتہائی کم اجرت پر، اور بعض اوقات ذہنی اذیت کے بدلے۔
یہ محض معاشی عدم توازن نہیں، بلکہ ایک فکری اور تہذیبی تقسیم بھی ہے۔
جب افریقی یا ایشیائی کمپنیاں خود اپنے AI نظام بنانے کی کوشش کرتی ہیں تو انہیں سرمایہ، اعتماد اور عالمی شناخت کے میدان میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عالیہ واعظ کے مطابق،
“یہ مسئلہ محض وسائل کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ کسے قابلِ اعتبار سمجھا جاتا ہے اور کس کی آواز کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ جب تیونس کی کمپنی "انسٹا ڈیپ” نے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی، تو اس کی تکنیکی صلاحیت سے زیادہ اس کے یورپی کمپنی کے ساتھ الحاق کو اہمیت دی گئی۔ گویا قابلیت نہیں، جغرافیہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون معتبر ہے۔
الف نیوز کے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ منظرنامہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں، بلکہ طاقت کے ایک نئے نظام کا اظہار ہے۔
آج افریقی ممالک میں اربوں ڈالر کے چینی نگرانی نظام نصب ہو رہے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیاں کلاؤڈ اور ڈیٹا کے ذریعے اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہیں۔
مقامی حکومتیں ایسے نظاموں پر انحصار کر رہی ہیں جنہیں وہ نہ مکمل طور پر سمجھ سکتی ہیں، نہ کنٹرول۔
یہ ایک خاموش قبضہ ہے—
جہاں زمین نہیں، بلکہ ڈیٹا، فیصلہ سازی اور انسانی رویے زیرِ تسلط آ رہے ہیں۔
اگر AI کے اصول چند طاقتور خطوں میں طے ہوں گے، تو کیا دنیا کی باقی تہذیبیں محض صارف بن کر رہ جائیں گی؟
کیا انسانی تجربات، زبانیں اور اقدار ایک محدود نقطۂ نظر میں ڈھل جائیں گی؟
عالیہ واعظ ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ:
یہ عدم توازن صرف ناانصافی نہیں، بلکہ عدم استحکام کو جنم دے گا۔
یہ فیصلہ کن سوال اب ہمارے سامنے ہے:
کیا مستقبل کی دنیا چند طاقتور مراکز کے ذریعے تشکیل پائے گی، یا ایک حقیقی عالمی اشتراک کے ذریعے؟
اگر اعتبار اور سرمایہ کاری کے پیمانے تبدیل نہ ہوئے، تو مصنوعی ذہانت نہ صرف عدم مساوات کو برقرار رکھے گی—
بلکہ اسے ایک مستقل نظام میں ڈھال دے گی۔
Artificial Intelligence: A New Colonial Order in the Making
The world today is witnessing a new kind of race—not for land or weapons, but for intelligence. In the realm of AI, attention is fixed on the rivalry between the United States and China. Yet the real question is not who wins, but who defines the systems that everyone else must live under.
International relations analyst Aaliyah Vayez, in her recent analysis, highlights a deeper and more troubling shift:
the AI economy is quietly reproducing a colonial hierarchy.
While Silicon Valley, Europe, and China dominate as centers of innovation, much of Africa and Asia are relegated to roles of labor—data labeling, moderation, and system deployment. Millions work behind the scenes of AI, often underpaid and exposed to psychologically distressing content.
But this is not merely an economic imbalance—it is a structural one.
When startups from the Global South attempt to innovate, they face skepticism, underfunding, and barriers to global credibility.
As Vayez notes,
“The issue is not just access to resources, but who is considered credible in the first place.”
This becomes evident in cases like InstaDeep, a Tunisia-founded AI firm. Despite its technical excellence, its global recognition only surged after its acquisition by a European company—suggesting that credibility often follows geography, not merit.
From Alif News’ lens, this is not just a technological shift—it is a reconfiguration of power.
Chinese surveillance systems are embedding themselves across African infrastructure, while American tech firms dominate cloud ecosystems and proprietary AI models. Local governments increasingly depend on systems they neither own nor fully understand.
This is not colonization by land—but by data, algorithms, and decision-making frameworks.
If AI systems are designed by a narrow group of actors, will global diversity survive in digital form?
Or will languages, identities, and values be quietly standardized under dominant assumptions?
Vayez warns that such concentration is not just unjust—it is inherently unstable.
The central question of the AI era is clear:
Will the future be shaped by a handful of powerful regions, or by a truly global community of innovators?
If credibility and capital continue to follow old geographic lines, AI will not just reflect inequality—it will institutionalize it.






Leave a Reply