25°
Sunny, April 20, 2026 in Kathmandu
بنگلہ دیشی مسلمانوں کے نام پر نفرت اور پھوٹ کی سیاست

بھارت کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں الفاظ محض بیانات نہیں رہتے بلکہ سماجی فضا کو متاثر کرنے والے ہتھیار بن جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ھیمنت بسوا سرما   کے بیانات نے اسی حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔

ممتا بنرجی کے خلاف ایک عوامی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نہ صرف سیاسی اختلاف کا اظہار کm

یا بلکہ اسے مذہبی رنگ دیتے ہ.Mmئے “بنگلہ دیشی مسلمانوں” کے نام پر ایک خوف اور تقسیم کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہ طرزِ بیان اس وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں انتخابی سیاست کو مذہبی شناخت کے ساتھ جوڑ کر ووٹروں کے جذبات کو متاثر کیا جاتا ہے۔

بنگال کے انتخابات جو بنیادی طور پر عوامی مسائل، ترقی، تعلیم. …Nn    ny j. اور روزگار کے گرد گھومنے چاہئیں، اب ایک ایسے بیانیے کی گرفت میں آتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں "ہم” اور "وہ” کی لکیر گہری کی جا رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ریاست کے انتخابات میں دوسری ریاست کے رہنما کی اس شدت کے ساتھ مداخلت محض سیاسی حکمت عملی ہے یا ایک وسیع تر نظریاتی مہم کا حصہ؟

یہ بیانات نہ صرف جمہوری اقدار کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ ملک کی کثیرالمذاہب شناخت کے لیے بھی ایک آزمائش بن جاتے ہیں۔ ہندوستان کی طاقت اس کی تنوع میں ہے، اور جب سیاست اس تنوع کو تقسیم میں بدلنے لگے تو یہ محض انتخابی حربہ نہیں رہتا بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

الف نیوز کا مؤقف یہ ہے کہ سیاست اگر عوامی خدمت سے ہٹ کر شناختی تقسیم کا ذریعہ بن جائے تو وہ جمہوریت کی روح کو کمزور کر دیتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی گفتگو کو مسائل کی بنیاد پر رکھا جائے، نہ کہ مذہبی یا نسلی بنیادوں پر۔


India’s political discourse appears to be entering yet another phase where words are no longer mere statements but instruments capable of shaping the social climate. Recent remarks by Himanta Biswa Sarma highlight this growing trend.

While addressing a rally against Mamata Banerjee, he framed his criticism in a manner that intertwined political opposition with religious identity, invoking the issue of “Bangladeshi Muslims.” Such rhetoric reflects a broader pattern where electoral politics is increasingly linked with religious narratives to influence voter sentiment.

Elections in West Bengal, which ideally should revolve around governance, development, education, and employment, now seem to be overshadowed by narratives that deepen divisions between “us” and “them.” This raises an important question: is the involvement of leadership from another state merely a political strategy, or part of a larger ideological campaign?

Such statements not only challenge democratic values but also test the resilience of India’s pluralistic identity. The strength of the nation lies in its diversity, and when politics begins to convert that diversity into division, it ceases to be just an electoral tactic—it becomes a societal risk.

Alif News maintains that when politics shifts from public service to identity-based polarization, it weakens the very spirit of democracy. The need of the hour is to re-center electoral discourse around real issues rather than religious or communal lines.

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading