25°
Sunny, April 22, 2026 in Kathmandu
سڑکوں کی سیاست یا جمہوریت کا وقار

الف نیوز شمارہ نمبر: 184 | تاریخ: 19 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد


لوک سبھا میں حکمران جماعت کی ناکامی کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا لوک سبھا کی توہین نہیں.

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

بھارتیہ  جنتا  پارٹی کی جانب سے خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا اقتدار میں بیٹھی جماعت کو بھی وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو عموماً اپوزیشن کا ہتھیار سمجھا جاتا ہے؟

لوک سبھا میں حکمران جماعت کی ناکامی کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا لوک سبھا کی توہین نہیں.

لوک سبھا میں کسی آئینی ترمیمی بل کا پاس نہ ہونا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اختلاف، بحث، اور حتیٰ کہ شکست—یہ سب جمہوریت کے بنیادی اجزاء ہیں۔ مگر اس شکست کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے "سیاسی مہم” میں بدل دینا، کیا واقعی جمہوری بالیدگی کی علامت ہے؟ یا یہ ایک طرح کی اخلاقی کمزوری کا اظہار ہے؟

جمہوریت صرف جیتنے کا نام نہیں، بلکہ ہار کو قبول کرنے کا بھی نام ہے۔
جب ایک حکومت، جس کے پاس اقتدار، وسائل اور ادارہ جاتی طاقت موجود ہو، وہ بھی عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے سڑکوں کا سہارا لے، تو یہ سوال لازمی پیدا ہوتا ہے کہ:

  • کیا پارلیمنٹ کی بالادستی کو کمزور کیا جا رہا ہے؟
  • کیا عوام کو جذباتی دباؤ کے ذریعے ایک مخصوص بیانیے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟

ملک کا عام شہری آج سکون، استحکام اور ترقی چاہتا ہے۔
لیکن جب ہر مسئلہ سڑکوں پر لے جایا جائے، ہر اختلاف کو الزام تراشی میں بدل دیا جائے، تو اس کا نتیجہ صرف ایک ہوتا ہے:
معاشرتی تھکن اور سیاسی بےزاری۔

عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ گزشتہ برسوں میں احتجاج کا کلچر بدل گیا ہے۔
جہاں پہلے اپوزیشن سڑکوں پر نظر آتی تھی، اب خود حکمران جماعت اور اس کے حامی بھی اسی روش پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

یہ طرزِ عمل ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے—
کیونکہ جب اقتدار اور احتجاج ایک ہی ہاتھ میں جمع ہو جائیں، تو توازن بگڑ جاتا ہے۔

سیاسی فائدہ یا عوامی نقصان؟

یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے کہ عوامی جذبات کو اب ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ:

  • کیا واقعی خواتین کے حقوق کا مسئلہ مقدم ہے؟
  • یا اسے ایک سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؟

اگر ہر پالیسی اور ہر بل کو جذباتی رنگ دے کر عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی جائے، تو یہ نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

جمہوریت کی اصل روح کیا ہے؟

جمہوریت کا حسن پارلیمنٹ میں مکالمے، دلیل اور اتفاقِ رائے میں ہے—
نہ کہ سڑکوں پر شور، نعروں اور تقسیم میں۔

حکومت کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ:

  • اختلاف کو برداشت کرے
  • اداروں کا احترام کرے
  • اور عوام کو سکون فراہم کرے، نہ کہ اضطراب

یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں، بلکہ قومی سنجیدگی کا ہے۔
اگر حکمران جماعتیں بھی احتجاجی سیاست کو اپنا لیں، تو جمہوریت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

عوام کی ایک بڑی تعداد آج یہی سوال پوچھ رہی ہے:
کیا ہم ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا مسلسل سیاسی ہنگامہ آرائی کی طرف؟

اگر سیاست کا مقصد صرف اقتدار کو برقرار رکھنا بن جائے، تو پھر عوام کا اعتماد سب سے پہلے مجروح ہوتا ہے—
اور یہی کسی بھی جمہوریت کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

Leave a Reply

کیا دنیا ایک نئی صلیبی جنگ کے دہانے پر ہے؟

عالمی سیاست، مذہبی بیانیہ اور مسلم دنیا کا مستقبل سیّد اکبر زاہد حالیہ برسوں میں عالمی سیاست کا منظرنامہ نہایت پیچیدہ اور تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں، طاقت کے نئے توازن کی کشمکش، اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات نے دنیا کو ایک بار پھر اس سوال کے سامنے لا کھڑا…

Keep reading

میری دو طرحی غزلیں

اکبر زاہد طرحی مصرع: عکس تیرا ہے دل کے درپن میں عکس تیرا ہے دل کے درپن میںنور پھیلا ہوا ہے  تن من میں تیری یادوں کا اک سمندر ہےموج در موج ہے مرے بن میں میں نے ہر سو تجھی کو دیکھا ہےتو ہی موجود  جابجا  فن میں دل کی ویرانیاں مہک اٹھیںذکر آیا…

Keep reading
اپریل 2026
پیر منگل بدھ جمعرات جمعہ ہفتہ اتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

Support Us

ICICI Bank
Vaniyambadi Branch
AKBAR ZAHID
Account No
619101000662
IFSC Code: ICI0006191

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading