الف نیوز شمارہ نمبر: 184 | تاریخ: 19 اپریل 2026 | مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد
لوک سبھا میں حکمران جماعت کی ناکامی کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا لوک سبھا کی توہین نہیں.
اداریہ
سیّد اکبر زاہد
بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے:
کیا اقتدار میں بیٹھی جماعت کو بھی وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو عموماً اپوزیشن کا ہتھیار سمجھا جاتا ہے؟
لوک سبھا میں حکمران جماعت کی ناکامی کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا لوک سبھا کی توہین نہیں.
لوک سبھا میں کسی آئینی ترمیمی بل کا پاس نہ ہونا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ اختلاف، بحث، اور حتیٰ کہ شکست—یہ سب جمہوریت کے بنیادی اجزاء ہیں۔ مگر اس شکست کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے "سیاسی مہم” میں بدل دینا، کیا واقعی جمہوری بالیدگی کی علامت ہے؟ یا یہ ایک طرح کی اخلاقی کمزوری کا اظہار ہے؟
جمہوریت صرف جیتنے کا نام نہیں، بلکہ ہار کو قبول کرنے کا بھی نام ہے۔
جب ایک حکومت، جس کے پاس اقتدار، وسائل اور ادارہ جاتی طاقت موجود ہو، وہ بھی عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے سڑکوں کا سہارا لے، تو یہ سوال لازمی پیدا ہوتا ہے کہ:
- کیا پارلیمنٹ کی بالادستی کو کمزور کیا جا رہا ہے؟
- کیا عوام کو جذباتی دباؤ کے ذریعے ایک مخصوص بیانیے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟
ملک کا عام شہری آج سکون، استحکام اور ترقی چاہتا ہے۔
لیکن جب ہر مسئلہ سڑکوں پر لے جایا جائے، ہر اختلاف کو الزام تراشی میں بدل دیا جائے، تو اس کا نتیجہ صرف ایک ہوتا ہے:
معاشرتی تھکن اور سیاسی بےزاری۔
عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ گزشتہ برسوں میں احتجاج کا کلچر بدل گیا ہے۔
جہاں پہلے اپوزیشن سڑکوں پر نظر آتی تھی، اب خود حکمران جماعت اور اس کے حامی بھی اسی روش پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے—
کیونکہ جب اقتدار اور احتجاج ایک ہی ہاتھ میں جمع ہو جائیں، تو توازن بگڑ جاتا ہے۔
سیاسی فائدہ یا عوامی نقصان؟
یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے کہ عوامی جذبات کو اب ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
- کیا واقعی خواتین کے حقوق کا مسئلہ مقدم ہے؟
- یا اسے ایک سیاسی بیانیے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے؟
اگر ہر پالیسی اور ہر بل کو جذباتی رنگ دے کر عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی جائے، تو یہ نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
جمہوریت کی اصل روح کیا ہے؟
جمہوریت کا حسن پارلیمنٹ میں مکالمے، دلیل اور اتفاقِ رائے میں ہے—
نہ کہ سڑکوں پر شور، نعروں اور تقسیم میں۔
حکومت کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ:
- اختلاف کو برداشت کرے
- اداروں کا احترام کرے
- اور عوام کو سکون فراہم کرے، نہ کہ اضطراب
یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں، بلکہ قومی سنجیدگی کا ہے۔
اگر حکمران جماعتیں بھی احتجاجی سیاست کو اپنا لیں، تو جمہوریت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
عوام کی ایک بڑی تعداد آج یہی سوال پوچھ رہی ہے:
کیا ہم ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں، یا مسلسل سیاسی ہنگامہ آرائی کی طرف؟
اگر سیاست کا مقصد صرف اقتدار کو برقرار رکھنا بن جائے، تو پھر عوام کا اعتماد سب سے پہلے مجروح ہوتا ہے—
اور یہی کسی بھی جمہوریت کا سب سے بڑا نقصان ہے۔






Leave a Reply