سیّد اکبر زاہد
23 اپریل — ایک فیصلہ کن دن
23 اپریل کو ریاستِ تمل ناڈو میں ہونے والے انتخابات محض ایک ریاستی عمل نہیں، بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کی سمت متعین کرنے والا ایک اہم موڑ ہے. یہ انتخابات صرف سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ نہیں، بلکہ دو راستوں کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنے کا نام ہے — ایک راستہ امن، بھائی چارے اور جمہوری اقدار کا، اور دوسرا نفرت، انتشار اور بے بسی کا۔
آج ہمارا ملک ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر ووٹ ایک امانت ہے، ایک ذمہ داری ہے، اور ایک فیصلہ ہے — کہ ہم اپنے آنے والے کل کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔
کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو اس ملک کی روح کو یرغمال بنانا چاہتی ہیں۔ وہ عوام کی آواز کو دبانا، اپنے فیصلے زبردستی مسلط کرنا، اور جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا خواب ایک ایسا بھارت ہے جو سب کا نہیں، بلکہ صرف ایک مخصوص سوچ اور ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کا ہو۔
یہ وہی طاقتیں ہیں جو محبت اور شانتی کے اس ملک کو نفرت اور خوف کی سرزمین میں بدل دینا چاہتی ہیں —
جہاں ماب لنچنگ عام ہو،
جہاں عبادت گاہوں پر قدغن ہو،
جہاں بلڈوزر انصاف کا نہیں بلکہ ظلم کا ہتھیار بن جائے،
جہاں بیٹیوں کی عزت محفوظ نہ رہے،
اور جہاں قانون کمزور اور طاقتور بے لگام ہو جائیں۔
اور پھر یہی لوگ بیرونِ ملک جا کر دعویٰ کرتے ہیں کہ “سب کچھ ٹھیک ہے” — جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
ایسے وقت میں ہم سب پر ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے — کہ ہم اپنے ووٹ کا استعمال صرف جذبات میں آکر نہیں، بلکہ شعور، بصیرت اور دور اندیشی کے ساتھ کریں۔
یاد رکھیں، آپ کو خواب دکھائے جائیں گے۔
آپ کو لالچ دیا جائے گا۔
آپ کے سامنے ایک ایسا مایا جال بچھایا جائے گا جس میں آپ کو پھنسانے کی ہر ممکن کوشش ہوگی۔
آپ سے کہا جائے گا: “اگر ہم جیت گئے تو سب کچھ بدل جائے گا، ہر خواب پورا ہوگا۔”
لیکن کیا ہم نے ماضی میں ایسے وعدے نہیں سنے؟
کیا ہر اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ جیسے وعدے صرف الفاظ نہیں تھے؟
کیا یہ سب ایک دل بہلانے کے سوا کچھ تھا؟
میرے عزیز بھائیوں، بہنوں، ماؤں اور بزرگوں!
اب وقت ہے کہ ہم حقیقت کو پہچانیں۔
ان چہروں کو پہچانیں جو بار بار وعدے کرتے ہیں اور پھر مُکر جاتے ہیں۔
ان ہاتھوں کو پہچانیں جنہوں نے آپ کے اعتماد کو توڑا، آپ کے ووٹ کو بے معنی بنایا، اور لاکھوں لوگوں کو ووٹر لسٹ سے نکال کر ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
اپنے ووٹ کو ضائع نہ کریں۔
ایسی جماعتوں کو ووٹ دینا جن کی جیت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، دراصل اپنے ہی مقصد کو کمزور کرنا ہے۔ یہ نقصان صرف ایک پارٹی کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہے —
ہماری تہذیب کا نقصان،
ہمارے بھائی چارے کا نقصان،
ہماری تعلیم اور ہماری نئی نسل کے مستقبل کا نقصان۔
یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم تاریخ کا حصہ بنیں گے یا تاریخ کا ایک گمشدہ صفحہ بن جائیں گے۔
ان لوگوں کا ساتھ دیں جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، جو آئین کا احترام کرتے ہیں، جو اس ملک کو سب کا ملک بنانا چاہتے ہیں — نہ کہ چند لوگوں کا۔
مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں سے ہوشیار رہیں۔
تاریخ کو مسخ کرنے والوں کو پہچانیں۔
اور ان قوتوں کو مسترد کریں جو ہمیں آپس میں لڑانا چاہتی ہیں۔
اپنے ووٹ کو ایک طاقت بنائیں —
امن کے لیے،
انصاف کے لیے،
اور ایک ایسے بھارت کے لیے جہاں ہر شہری سر اٹھا کر جی سکے۔
یاد رکھیں — آپ کا ووٹ، آپ کی آواز ہے… اور یہی آواز اس ملک کی تقدیر لکھے گی۔




Leave a Reply