جنگ کی آگ میں ایک اور ستون گر گیا
مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی فضا میں ایک اور بڑا دھچکہ لگا ہے۔ Iran نے اپنے طاقتور قومی سلامتی کے سربراہ Ali Larijani کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جو اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان کے مطابق، لاریجانی نے “اسلامی انقلاب اور ایران کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کی اور بالآخر شہادت کا درجہ حاصل کیا۔”
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسرائیل نے نہ صرف اس حملے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ ایران کی نئی قیادت، خصوصاً Mojtaba Khamenei کو بھی نشانہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت نے پہلے ہی خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے لیا تھا، اور اب لاریجانی کی موت کو ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے لاریجانی کو “نظام کا اصل منتظم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی قیادت کو ختم کرنے کا عمل جاری رہے گا۔
خطے کی صورتحال
- آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو چکی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے
- Donald Trump نے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے خود کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا
- لبنان اور دیگر علاقوں میں بھی جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں
- لاکھوں افراد بے گھر ہو رہے ہیں
“Another Pillar Falls in the Flames of War — Iran Confirms Killing of Ali Larijani”
Amid intensifying conflict in the Middle East, Iran has officially confirmed the death of its powerful national security chief Ali Larijani, who was killed in an Israeli airstrike.
In a statement, Iran’s Supreme National Security Council described his death as a “martyrdom” after a lifetime of service to the Islamic Republic.
The development comes as Israel continues its aggressive stance, vowing to target Iran’s new leadership, particularly Mojtaba Khamenei.
This follows the earlier killing of Iran’s Supreme Leader Ali Khamenei, an event that triggered the ongoing war in the region. Analysts describe Larijani’s death as a significant strategic blow to Iran.
Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu called Larijani a key figure behind Iran’s military and political strategy, signaling continued escalation.
Regional Impact
- The Strait of Hormuz is nearly shut, disrupting global oil supply
- Donald Trump criticised allies and signaled unilateral action
- Fighting has spread to Lebanon and beyond
- Large-scale displacement is underway across the region
جنگ جب اپنے عروج پر پہنچتی ہے،
تو صرف سرحدیں نہیں ٹوٹتیں—
قیادت کے ستون بھی گرنے لگتے ہیں۔
ہر ہلاکت ایک خبر ہوتی ہے،
مگر اس کے پیچھے
ایک پورا عہد سانس لینا چھوڑ دیتا ہے۔




Leave a Reply