جمہوریت کا لرزتا ہوا آئینہ – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

جمہوریت کا لرزتا ہوا آئینہ

الف نیوز شمارہ نمبر: 154؛ تاریخ: 18 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

اداریہ

سیّد اکبر زاہد

جب منصف بھی سوال بن جائیں — جمہوریت کا لرزتا ہوا آئینہ

جمہوریت صرف ایک نظامِ حکومت نہیں، بلکہ ایک اخلاقی وعدہ ہے—ایک ایسا وعدہ جس میں عوام یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے گی، ان کا ووٹ محفوظ رہے گا، اور ان کے حقوق کی حفاظت ایک غیر جانبدار نظام کرے گا۔ مگر جب یہی نظام سوالوں کے گھیرے میں آ جائے تو جمہوریت کا چہرہ دھندلا ہونے لگتا ہے۔

ہندوستان میں حالیہ برسوں کے دوران ایک تشویش ناک بحث نے جنم لیا ہے—کیا ریاستی ادارے واقعی آزاد ہیں؟ یا وہ آہستہ آہستہ طاقت کے مراکز کے زیرِ اثر آ رہے ہیں؟ خاص طور پر Election Commission of India اور Supreme Court of India جیسے اداروں کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات اس بحث کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔

انتخابات سے قبل پولیس اور انتظامی افسران کے تبادلے بظاہر ایک معمول کا انتظامی عمل دکھائی دیتے ہیں، مگر جب سیاسی فضا میں عدم اعتماد کی گرد شامل ہو جائے تو یہی فیصلے شکوک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تبادلے کیوں ہو رہے ہیں—سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبادلے واقعی غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے ہیں، یا کسی خاص سیاسی نتیجے کی راہ ہموار کرنے کے لیے؟

اسی طرح عدلیہ کے حوالے سے بھی ایک خاموش مگر گہری بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ جب ریٹائرڈ ججوں کو اہم سرکاری عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے، تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا فیصلے صرف آئین کی روشنی میں کیے گئے تھے یا ان کے پیچھے کوئی غیر مرئی مفاد بھی کارفرما تھا؟ یہ سوال شاید ثبوتوں کی عدالت میں ثابت نہ ہو سکے، مگر عوامی شعور کی عدالت میں ضرور گونجتا ہے۔

جمہوریت کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے ادارے نہیں، بلکہ ان پر عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتماد متزلزل ہو جائے تو مضبوط سے مضبوط آئینی ڈھانچہ بھی کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سب سے بڑا چیلنج کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا نہیں، بلکہ اعتماد کی بحالی کا ہے۔

ادارے تب مضبوط ہوتے ہیں جب وہ نہ صرف غیر جانبدار ہوں بلکہ غیر جانبدار نظر بھی آئیں۔ شفافیت، جوابدہی اور خود احتسابی ہی وہ ستون ہیں جن پر جمہوریت کی عمارت قائم رہ سکتی ہے۔ اگر ان ستونوں میں دراڑیں پڑ جائیں تو پوری عمارت خطرے میں آ جاتی ہے۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ سوالوں کو دبایا نہ جائے بلکہ ان کا سامنا کیا جائے۔ تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جائے بلکہ اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت خاموشی میں نہیں، بلکہ مکالمے میں ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ:
جمہوریت کی جنگ صرف بیلٹ باکس میں نہیں لڑی جاتی،
بلکہ دلوں کے یقین میں جیتی جاتی ہے۔

اگر یقین باقی رہے تو نظام قائم رہتا ہے،
اور اگر یقین ٹوٹ جائے تو
جمہوریت صرف ایک لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔

Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading