/ Sep 19, 2026
Trending
الف نیوز شمارہ نمبر: 153؛ تاریخ: 17 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد
سیّد اکبر زاہد

عالمی سیاست کے موجودہ منظرنامے میں ایک ایسا سوال بار بار ابھر رہا ہے جو محض کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے:
کیا جدید جنگیں اب نظریات اور عقائد کے خلاف لڑی جا رہی ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کے وزیر دفاع Pete Hegseth کے بعض بیانات نے اس بحث کو مزید شدت دی ہے۔ مختلف مواقع پر انہوں نے یہ تاثر دیا کہ موجودہ جنگ دراصل ایک وسیع تر تہذیبی اور مذہبی تصادم کا حصہ ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کے بعض سخت بیانات بھی عالمی میڈیا میں زیر بحث رہے، جن میں یہ کہا گیا کہ شیعہ ہو یا سنی، سب اسرائیل کے دشمن ہیں۔
اگر واقعی جنگ کا بیانیہ اس نہج تک پہنچ جائے کہ ایک پوری مذہبی برادری کو دشمن کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی اور انسانی بحران کی علامت ہے۔ کیونکہ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب جنگ کا ہدف کسی قوم کے بجائے ایک عقیدہ یا شناخت بن جائے تو اس کے نتائج نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
یہ صورتِ حال صرف مغربی ایشیا تک محدود نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر کشیدگی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ہندوستان، جو طویل عرصے تک مذہبی تنوع اور ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا رہا، وہاں بھی حالیہ برسوں میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور عدم تحفظ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض قوانین اور سیاسی بیانیے نے اس احساس کو تقویت دی ہے کہ معاشرے میں تقسیم کی لکیر گہری ہو رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب سیاست مذہب کے گرد گھومنے لگتی ہے تو انصاف کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں نفرت کے بیج بہت آسانی سے بوئے جا سکتے ہیں، اور پھر یہ بیج صرف ایک برادری نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔
انسانی تاریخ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جنگیں کبھی بھی دائمی حل نہیں دیتیں۔ وہ صرف زخم چھوڑتی ہیں—جغرافیہ پر بھی اور انسانوں کے دلوں میں بھی۔
اسلام، عیسائیت، ہندومت اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب بنیادی طور پر انسانی کرامت، رحم اور انصاف کا درس دیتے ہیں۔ اگر سیاست ان اقدار سے دور ہو جائے تو پھر مذہب کے نام پر ہونے والی ہر جنگ دراصل مذہب کی روح کے خلاف ہوتی ہے۔
آج دنیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ اخلاقی بصیرت ہے۔ عالمی رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر جنگ کا بیانیہ کسی مذہب کے خلاف بن گیا تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں نفرت اور انتقام کے نئے دائرے پیدا کریں گے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے طاقتور ممالک اور رہنما اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ
اخلاقی بصیرت کی روشنی پوری انسانیت کی مشترکہ امانت ہے۔
اور جب تک سیاست اس امانت کی حفاظت نہیں کرے گی، امن صرف ایک خواب ہی رہے گا۔
It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution
Copyright BlazeThemes. 2023
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.