جب جنگ کا ہدف ایک عقیدہ بن جائے – Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

جب جنگ کا ہدف ایک عقیدہ بن جائے

الف نیوز شمارہ نمبر: 153؛ تاریخ: 17 مارچ 2026؛ مدیرِ اعلی: سیّد اکبر زاہد


اداریہ

سیّد اکبر زاہد

Image

عالمی سیاست کے موجودہ منظرنامے میں ایک ایسا سوال بار بار ابھر رہا ہے جو محض کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانی تہذیب کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے:
کیا جدید جنگیں اب نظریات اور عقائد کے خلاف لڑی جا رہی ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کے وزیر دفاع Pete Hegseth کے بعض بیانات نے اس بحث کو مزید شدت دی ہے۔ مختلف مواقع پر انہوں نے یہ تاثر دیا کہ موجودہ جنگ دراصل ایک وسیع تر تہذیبی اور مذہبی تصادم کا حصہ ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کے بعض سخت بیانات بھی عالمی میڈیا میں زیر بحث رہے، جن میں یہ کہا گیا کہ شیعہ ہو یا سنی، سب اسرائیل کے دشمن ہیں۔

اگر واقعی جنگ کا بیانیہ اس نہج تک پہنچ جائے کہ ایک پوری مذہبی برادری کو دشمن کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی اور انسانی بحران کی علامت ہے۔ کیونکہ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب جنگ کا ہدف کسی قوم کے بجائے ایک عقیدہ یا شناخت بن جائے تو اس کے نتائج نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔

یہ صورتِ حال صرف مغربی ایشیا تک محدود نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر کشیدگی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ہندوستان، جو طویل عرصے تک مذہبی تنوع اور ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا رہا، وہاں بھی حالیہ برسوں میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور عدم تحفظ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض قوانین اور سیاسی بیانیے نے اس احساس کو تقویت دی ہے کہ معاشرے میں تقسیم کی لکیر گہری ہو رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب سیاست مذہب کے گرد گھومنے لگتی ہے تو انصاف کا توازن بگڑنے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں نفرت کے بیج بہت آسانی سے بوئے جا سکتے ہیں، اور پھر یہ بیج صرف ایک برادری نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔

انسانی تاریخ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ جنگیں کبھی بھی دائمی حل نہیں دیتیں۔ وہ صرف زخم چھوڑتی ہیں—جغرافیہ پر بھی اور انسانوں کے دلوں میں بھی۔

اسلام، عیسائیت، ہندومت اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب بنیادی طور پر انسانی کرامت، رحم اور انصاف کا درس دیتے ہیں۔ اگر سیاست ان اقدار سے دور ہو جائے تو پھر مذہب کے نام پر ہونے والی ہر جنگ دراصل مذہب کی روح کے خلاف ہوتی ہے۔

آج دنیا کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ اخلاقی بصیرت ہے۔ عالمی رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر جنگ کا بیانیہ کسی مذہب کے خلاف بن گیا تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں نفرت اور انتقام کے نئے دائرے پیدا کریں گے۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے طاقتور ممالک اور رہنما اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ
اخلاقی بصیرت کی روشنی پوری انسانیت کی مشترکہ امانت ہے۔

اور جب تک سیاست اس امانت کی حفاظت نہیں کرے گی، امن صرف ایک خواب ہی رہے گا۔


Akbar Zahid

Publisher and Editor in Chief for Alif News Bilingual Online Daily News Paper

SUBSCRIBE US

It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. The point of using Lorem Ipsum is that it has a more-or-less normal distribution

Copyright BlazeThemes. 2023

Discover more from Alif News الف نیوز : مدیرِ اعلٰی: سیّد اکبر زاہد

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading